سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 318

سيرة النبي علي 318 جلد 3 آپ نے ایسی عورت سے شادی کی جو اپنا زمانہ گزار چکی تھی۔پھر شادی کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنی ساری دولت آپ کے حوالے کر دی مگر آپ نے سے پہلا کام جو کیا وہ یہ تھا کہ اس کے سب غلاموں کو آزاد کر دیا۔گویا جب آپ نے شادی نہ کی تھی اُس وقت بھی اعلیٰ نمونہ دکھایا اور جب کی تو بھی ایسا نمونہ دکھایا کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ کی شادی پر لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ نو سال کی عمر میں شادی کی جو ظلم ہے اول تو یہ بھی غلط ہے۔عمر کے بارہ میں مختلف روایتیں ہیں اور متحقق یہی ہے کہ اُس وقت آپ کی عمر تیرہ سال کی تھی۔اگر چہ بعض روایتوں میں سترہ سال بھی ہے لیکن تیرہ سال ہی صحیح ہے اور یہ بھی چھوٹی عمر ہی ہے اور ظاہر ہے کہ سب سے زیادہ تکلیف خود انہیں ہی ہو سکتی تھی ، عیسائی مصنفین کو تکلیف ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔تیرہ سال کی عمر میں آپ کی شادی ہوئی اور نو سال بعد آنحضرت ﷺ کا انتقال ہو گیا۔گویا بائیس برس کی عمر میں ہی آپ بیوہ ہو گئیں۔اس پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپ کی عمر اس شادی کی وجہ سے بر باد ہو گئی۔مگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے دل کی گہرائیوں کو ہم ٹولتے ہیں تو اس میں آنحضرت ﷺ کی محبت کا بہت گہرا نقش پاتے ہیں۔سالہا سال گزر جاتے ہیں اور آپ کے پاس کثرت سے روپیہ آنے لگتا ہے اور ثابت ہے کہ ایک ایک دن میں لاکھ لاکھ روپیہ آپ کے پاس آیا مگر آپ کی سادگی میں فرق نہیں آیا اور آپ نے وہ سب کا سب شام تک تقسیم کر دیا۔ایک دن صبح سے شام تک آپ نے قریباً ایک لاکھ روپیہ تقسیم کر دیا۔اس پر ایک سہیلی نے کہا آپ روزہ سے تھیں افطاری کے لئے چار آنہ رکھ لیتیں تو کیا اچھا ہوتا۔آپ نے جواب دیا کہ تم نے پہلے کیوں نہ یاد دلایا۔اگر آنحضرت ﷺ کی محبت کا نقش اس قدر گہرا نہ ہوتا تو آپ روپیہ ملنے پر ضرور یہ طریق بدل دیتیں مگر حالت یہ تھی کہ ایک دفعہ آپ میدہ کی روٹی کھانے لگیں۔نرم نرم