سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 317

سيرة النبي عمال 317 جلد 3 دے دیا۔آپ کو دولت بھی ملی اور لاکھوں روپیہ آپ کے پاس آیا مگر آپ نے اپنی حالت ویسی ہی رکھی۔ایک دفعہ صدقات کا کچھ روپیہ آیا اور اسے تقسیم کرتے ہوئے ایک دینار کسی کونے میں گر گیا آپ کو اٹھانے کا خیال نہ رہا۔نماز پڑھانے کے بعد جب یاد آیا تو لوگوں کے اوپر سے پھاندتے ہوئے جلدی سے گھر گئے۔صحابہ نے دریافت کیا يَا رَسُولَ الله ! کیا بات تھی؟ آپ نے فرمایا کہ اس طرح ایک دیناررہ گیا تھا اور میں چاہتا تھا جس قدر جلدی ممکن ہو اسے تقسیم کروں۔دولت ہونے کے با وجود آپ غریبوں کے ساتھ مل کر رہتے تھے۔صحابہؓ کو شکایت تھی کہ بعض ان میں سے امیر ہیں۔آپ نے ان کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر مسکراتے ہوئے فرمایا کیا تمہیں پسند نہیں کہ میں اور تم ایک گروہ میں ہوں۔تو مال و دولت کے باوجود آپ نے ایسی سیر چشمی اور استغنا ظاہر کی کہ دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ جو کچھ آتا آپ خدا کی راہ میں تقسیم کر دیتے تھے حالانکہ گھر کی حالت یہ تھی کہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کئی کئی مہینے ہمارے گھروں میں کھانا نہیں پکتا تھا۔اونٹنی کا دودھ پی لیتے یا کھجوریں کھا لیتے تھے یا کوئی ہمسایہ کھانا یا دودھ بھیج دیتا تو وہ استعمال کر لیتے تھے اور کبھی فاقہ سے ہی رہتے تھے اور یہ اس زمانہ کی حالت ہے جب کثرت سے مال و دولت آ رہی تھی 10۔حیرت ہے کہ اسی زمانہ کی زندگی کے متعلق بعض عیسائی مصنفین لکھتے ہیں کہ آپ کے پاس دولت آئی تو آپ بگڑ گئے حالانکہ آپ کی حالت یہ تھی کہ جب وفات پائی تو زره چند صاع جو کے عوض رہن تھی۔غرضیکہ آپ پر غربت اور دولتمندی دونوں زمانے آئے مگر آپ نے ہر حالت میں اچھا نمونہ دیکھا۔آپ کو روپیہ ملا مگر پھر بھی آپ نے غربت کو قائم رکھا۔آپ مجرد رہے اور ایسا اعلیٰ نمونہ دکھایا کہ دنیا حیران ہے۔آپ نے 25 برس کی عمر میں شادی کی جو عرب میں بڑی عمر ہے کیونکہ وہاں 16 ، 17 برس کا آدمی پورا بالغ ہو جاتا ہے اور اس عمر میں بھی جب آپ نے شادی کی تو چالیس سال کی ایک بیوہ کے ساتھ۔گویا اس زمانہ میں جو امنگوں اور آرزوؤں کا زمانہ ہوتا ہے