سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 314
سيرة النبي عمال 314 جلد 3 کہ آپ جھوٹ نہ بولتے تھے آپ کی ہتک ہے کیونکہ آپ صداقت کا ایسا اعلیٰ نمونہ تھے کہ جس کی نظیر نہیں ملتی اور صداقت کا مقام جھوٹ نہ بولنے سے اوپر ہے۔پس آپ کا یہی کمال نہیں کہ جھوٹ نہ بولتے تھے بلکہ صدوق کہلاتے تھے۔آپ کے کلام میں کسی قسم کا اخفا، پردہ دری یا فریب نہ ہوتا تھا۔یہی وجہ تھی کہ آپ جو کہہ دیتے لوگ اسے تسلیم کر لیتے۔عیسائی مؤرخین تک نے اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ آپ کی پہلی زندگی سچائی کی زندگی تھی۔آپ نے اہل مکہ سے سے کہا اگر میں یہ کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے لشکر ہے جو تم پر حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم یقین کرو گے یا نہیں ؟ سب نے کہا ہاں ہم مان لیں گے۔حالانکہ ویران علاقہ تھا اور صفا و مروہ پر چڑھ کر دور دور نظر جاتی تھی۔ایسی حالت میں آپ کی بات ماننے کے صاف معنی یہی تھے کہ وہ اپنی آنکھوں کو جھوٹا سمجھتے حالانکہ وہ دیکھ رہے ہوتے کہ کوئی لشکر نہیں مگر آپ کی صداقت کا انکار نہ کر سکتے۔وہ سب کے سب اپنی آنکھوں کو جھوٹا سمجھنے کیلئے تیار تھے مگر یہ نہیں کہ سکتے تھے کہ آپ غلط کہہ رہے ہیں۔اور جب سب نے یہ اقرار کر لیا تو آپ نے فرمایا خدا نے مجھے تمہاری ہدایت و اصلاح کیلئے بھیجا ہے۔اس کا ان لوگوں نے انکار کر دیا۔پھر آپ کی صداقت کے متعلق ایک سخت دشمن کی گواہی ہے۔اہل مکہ کو جب خیال ہوا کہ حج کے موقع پر لوگ جمع ہوں گے تو عین ممکن ہے آپ ان میں سے بعض کو اپنے ساتھ ملالیں اس پر وہ لوگوں کو آپ سے بدظن کرنے کی تجویزیں سوچنے لگے۔کسی نے کہا یہ مشہور کر دو کہ یہ شاعر ہے، کسی نے کہا یہ کہو جھوٹا ہے، کسی نے کہا مجنون ہے۔اُس وقت ایک سخت دشمن نے جو آخر دم تک مخالفت کرتا رہا کہا بہا نہ وہ بناؤ جسے لوگ ماننے کیلئے تیار بھی ہوں۔جب تم یہ کہو گے کہ جھوٹا ہے تو کیا لوگ یہ نہ پوچھیں گے کہ آج تک تو تم اس کی راستبازی اور صداقت شعاری کے قائل تھے اب یہ جھوٹا کیسے ہو گیا۔اس لئے عذر ایسا بناؤ جسے لوگ مان جائیں مگر وہ کوئی عذر نہ گھڑ سکے۔