سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 310

سيرة النبي عمال 310 جلد 3 میں وقار اور عزت رکھنے کے باوجود لیڈری کی خواہش نہ کی بلکہ جب خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کو یہ حکم ملا تو آپ نے یہی کہا کہ بہتر ہو اگر یہ خدمت میرے بھائی ہارون علیہ السلام کے سپرد کر دی جائے اور جب خدا تعالیٰ نے آپ کو ہی منتخب کیا تو صلى الله آپ آگے بڑھے۔اسی طرح رسول کریم ﷺ کو جب الہام ہوا کہ اقرا تو آپ نے فرمایا مَا اَنَا بِقَارِي حالانکہ تفاسیر کی کتب میں لکھا ہے کہ اس وقت کوئی لکھی ہوئی چیز نہ تھی جو آپ کو پڑھنے کے لئے دی گئی۔صرف منہ سے یہ الفاظ کہلوائے گئے تھے اور جب حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اصرار کے ساتھ تین دفعہ یہی کہا تو آپ نے پڑھا۔جس کے یہ معنی ہیں کہ آپ خود لیڈری نہیں چاہتے تھے بلکہ خدا چاہتا تھا کہ آپ کو دنیا کا راہنما بنائے اور جسے خدا بنانا چاہے اسے کون روک سکتا ہے۔اس کیریکٹر میں آپ دوسرے انبیاء سے ایسے مشابہ ہیں کہ اگر دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے اپنے مقدس رہنماؤں اور انبیاء کے حالات پر نظر کریں تو فوراً انہیں معلوم ہو جائے کہ رسول کریم ﷺ کا یہ کیریکٹر انبیاء سے ملتا ہے دنیا داروں سے نہیں ملتا۔دوسری خوبی جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے یہ ہے کہ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ یعنی یہ تم میں سے ہی ہے۔تم میں سے ہونا بظاہر معمولی بات معلوم ہوتی ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ ایک بہت بڑی خوبی ہے جس کی وجہ سے آپ را ہنماؤں میں ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔انبیاء اپنے آنے کی غرض ہمیشہ یہ بتاتے ہیں کہ دنیا کی راہنمائی کریں اور اچھا نمونہ پیش کر سکیں اور ظاہر ہے کہ اگر نمونہ ان حالات سے نہیں گزرا، اس قسم کی حرصیں اور روکیں اسے پیش نہیں آئیں جو عام لوگوں کو آتی ہیں تو وہ نمونہ نہیں ہوسکتا۔اسی مشکل کی وجہ سے عیسائی یہ خیال کرنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام خدا کے بیٹے تھے مگر انسان کے وجود میں آئے۔ہند و صاحبان کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ خدا کے اوتار انسانی یا دوسری مخلوقات کے بھیس میں دنیا میں آتے رہے ہیں تا وہ دنیا کے لئے نمونہ ہو سکیں۔گویا تمام مذاہب اس اصل کو تسلیم کرتے ہیں کہ صحیح نمونہ ہم جنس