سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 298
سيرة النبي علي مظلوم قوم کے لئے اجازت 298 جلد 3 مگر چونکہ ضروری نہیں کہ ہر شخص اسلام کی تعلیم پر عمل کرے اور چونکہ مذہبی حملے عام طور پر کمزور قوموں پر ہوا کرتے ہیں خصوصاً ایسے مذاہب کے پیروؤں پر جو جدید ہوتے ہیں اور ان سے ہمدردی حملہ آور قوم کے علاوہ دوسری قوموں میں بھی نہیں ہوتی اس لئے دنیوی جنگوں کے متعلق جو قانون تھا وہ یہاں پر چسپاں نہیں ہوسکتا۔ایسے موقع پر حملہ آور قوم کی ہم مذاہب اقوام یا وہ اقوام جو اس کی ہم مذہب تو نہ ہوں لیکن دوسری قوم کے مذہب سے شدید اختلاف رکھتی ہوں اس مظلوم قوم کی تائید کے لئے کبھی نہیں نکلیں گی۔پس ضروری تھا کہ اس مظلوم قوم کے ہاتھ میں کوئی ہتھیار دیا جاتا جس سے وہ اپنے حقوق کی حفاظت کر سکتی اور حملہ آور قوم کے دل میں بھی کوئی ڈر باقی رہتا۔پس اس کے لئے اسلام نے یہ اجازت دی کہ اگر ایک قوم اپنا مذہب منوانے کے لئے کسی دوسری قوم پر حملہ کرے تو اس کے قیدیوں کے ساتھ عام جنلی قیدیوں کی نسبت کسی قدر مختلف سلوک کیا جائے۔اور وہ یہ سلوک ہے کہ اس کے قیدیوں کو فروخت کرنے کی اجازت ہو تا کہ وہ مظلوم قوم جس پر حملہ کی وجہ ہی اس کا کمزور ہونا تھا قیدیوں کی پرورش کے بار کے نیچے دب کر اور بھی تباہ نہ ہو جائے۔اس صورت کا نام خواہ غلامی رکھ لو خواہ قید کی کوئی دوسری نوعیت قرار دے لو بہر حال اسلام نے اس کو جائز رکھا ہے۔مگر کوئی عقل مند انکار نہیں کر سکتا کہ ایک کمزور قوم پر اس غرض سے حملہ کرنے والا کہ اسے اس کی واحد دولت یعنی تعلق باللہ سے محروم کر دے اور شیطان کی ابدی غلامی میں دے دے یقیناً اس بات کا مستحق ہے کہ اسے بتایا جائے کہ آزادی کا چھن جانا کیسا تکلیف دہ ہے۔جو شخص حریت ضمیر انسان سے چھینتا ہے اگر اسے کچھ عرصہ کے لئے جسمانی حریت سے محروم رکھا جائے تو یقیناً یہ سزا اس کے فعل سے کم ہے۔ضروری شرائط باوجود اس کے کہ جس جرم کی سزا میں اسلام نے فردی قید کو جائز رکھا ہے وہ بہت شدید ہے اور اس کی سزا بہت کم ہے پھر بھی