سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 297

سيرة النبي عمال 297 جلد 3 واجب قرار دیا گیا ہے۔اور اس طرح اس ضرورت کو جو آزاد کو غلام بنانے پر مجبور کرتی ہے باطل کر کے غلامی کی ایک شق کا قلع قمع کر دیا گیا ہے۔دنیوی جنگوں میں کسی کو غلام نہیں بنایا جا سکتا اس کے بعد اب میں وہ صورت لیتا ہوں جو غلامی کی جائز صورت کبھی جاتی رہی ہے اور جو یہ ہے کہ کسی شکوہ یا شکایت پر دو تو میں آپس۔میں لڑ پڑیں اور ان میں سے غالب آنے والی قوم مغلوب کے افراد کو قید کر کے اپنا غلام بنا لے۔اس قسم کی غلامی میں سے اسلام نے اس غلامی کو تو اڑا دیا ہے جو دنیوی جنگوں کے نتیجے میں رائج تھی اور اس کے متعلق وہی تعلیم دی ہے جو میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ اول تو دنیوی جنگیں نہ ہی ہوں اور اگر ہوں تو ان کا اختتام صلح پر ہونا چاہئے اور محض حقوق کے تصفیہ پر ہونا چاہئے اور غلام وغیرہ نہیں بنانے چاہئیں۔ان جنگوں کا اصول اسلام نے یہ رکھا ہے کہ دوسری بے تعلق قوموں کو بھی ان میں حصہ لینا چاہئے تا کہ کوئی قوم بھی تعدی نہ کر سکے۔مذہبی جنگوں میں غلام بنانے کی ممانعت دوسری قسم کی جنگیں مذہبی جنگیں ہیں۔ان کے متعلق اسلام نے جو حکم دیا ہے وہ یہ ہے لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَلِى دِينِ 3 اور فرمایا ہے لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ 4 یعنی ہر ایک کا دین اس کے ساتھ ہے اور دلیل اور صحیح طریق عمل واضح کر دینے کے بعد کسی کو ایک دوسرے پر جبر کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔اگر ہدایت کے ظاہر ہونے کے بعد بھی کوئی شخص ہدایت کو تسلیم نہیں کرتا تو اس کا نقصان اس کو پہنچے گا۔دوسروں کو کوئی حق نہیں کہ وہ اس پر زور دیں اور اسے مجبور کر کے اپنے مذہب میں داخل کریں۔پس اپنا مذہب منوانے کے لئے جنگ کرنے کا سلسلہ اسلام نے بالکل روک دیا ہے اور اس طرح حملہ کر کے غلام بنانے کا طریق دنیا سے مٹا دیا ہے۔