سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 291
سيرة النبي عمال سمجھے جاتے تھے۔291 جلد 3 غلامی کی بنیاد ظلم پر ہیں بلکہ تم پر رکھی گئی مذکورہ بالا تاریخی واقعات سے یہ معلوم ہوگا کہ غلامی کی بنیاد ظلم پر نہیں بلکہ رحم پر رکھی گئی ہے اور اس کے قیام کا اصل محرک جنگ میں شامل ہونے والے لوگوں کو قتل ہونے سے بچانے کا خیال تھا۔جس وقت تک لوگوں کی یاد میں پہلا نقطہ نگاہ تازہ رہا اُس وقت تک تو لوگ اس تحریک کو نیک اور شاہراہ ترقی کی طرف ایک صحیح قدم سمجھتے رہے۔جب ایک لمبے عرصہ کے بعد پہلا نقطہ نگاہ بھول گیا تو پھر یہی فعل ایک سزا سمجھا جانے لگا۔خصوصاً جبکہ انسانی دماغ ترقی کر رہا تھا اور اخلاق کی مزید باریکیاں معلوم ہونے کے سبب سے ایک حصہ انسانوں کا اس بات کی طرف مائل تھا کہ اپنے دشمن کے ضرر سے بچنے کے لئے اور ذرائع بھی اختیار کئے جاسکتے ہیں، پس ہمیں ان کی تلاش کرنی چاہئے۔غلامی کی ناجائز صورتیں غلامی کی ان صورتوں کے علاوہ جو کہ اپنے اپنے وقت میں جائز تھیں بعض ناجائز صورتیں بھی پیدا ہو گئیں مثلاً یہ کہ جب لوگوں نے دیکھا کہ لوگوں کو غلاموں سے کام لینے کی عادت ہوگئی ہے اور وہ ان کے لئے بڑی بڑی رقمیں ادا کرتے ہیں تو انہوں نے آزاد لوگوں کو یا ان کے بچوں کو پکڑ پکڑ کر بیچنا شروع کیا اور ایک ملک سے پکڑ کر دوسرے ملک میں لے جا کر بیچ دیتے تھے اور اس طرح لاکھوں روپیہ کماتے تھے۔یہ صورت انسانی تمدن کے مختلف دوروں میں کبھی بھی معقول نہیں سمجھی گئی اور ہمیشہ اسے ناپسندیدہ اور نامناسب ہی قرار دیا گیا۔چونکہ غلامی کی ابتدا اس خیال پر تھی کہ انسان کو غلام اس کے فائدہ کے لئے بنایا جاتا ہے یعنی اس کو قتل سے بچانے کے لئے اس لئے اس نقطہ نگاہ کے ماتحت دنیا میں ایک اور طریق غلامی کا بھی ایجاد ہو گیا کہ بعض لوگ خود اپنے آپ کو یا اپنے بچوں کو بیچ