سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 290

سيرة النبي علي 290 جلد 3 افراد کے قبضہ میں دے دیا جائے کہ وہ ان کی نگرانی رکھیں اور اس خرچ کے بدلہ میں جو انہیں ان قیدیوں پر کرنا پڑے ان سے کام لیا جائے۔چونکہ اُس وقت کا نقطہ نگاہ یہی تھا کہ ہمارا ہر دشمن در حقیقت ہمارا آئندہ قاتل ہے اس لئے جب کوئی اس قسم کا قیدی بھاگتا تھا تو اس کے معنی یہی لئے جاتے تھے کہ یہ اپنے علاقہ میں جا کر پھر ہمارے خلاف لڑائی کا جوش پیدا کرے گا اور ہمیں قتل کرنے کی کوشش کرے گا اس لئے اُس زمانہ کے نقطہ نگاہ سے ہر قیدی جو بھاگتا تھا اسے قتل کیا جاتا تھا۔اور اگر ہم اُس وقت کے نقطہ نگاہ سے اس سوال پر نظر ڈالیں تو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ گو آج یہ فعل ظالمانہ نظر آئے مگر اُس وقت کے حالات کے ماتحت سوسائٹی کی حفاظت کے لئے یہ ایک ضروری فعل تھا۔صنعت و حرفت کی داغ بیل کس طرح رکھی گئی دنیا نے اس کے اوپر پھر ترقی کی اور غلاموں کے وجود کو تمدن کا ایک جزو بنا لیا۔یعنی وہ پیشے جن میں مشاقی صبر، استقلال اور لمبی محنت کے نتیجے میں پیدا ہوتی تھی ان قیدیوں یعنی غلاموں کے سپرد کئے گئے اور اس طرح صنعت و حرفت جو اس وقت تمدن و ترقی کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں کی داغ بیل رکھی گئی۔یہی وجہ ہے کہ قدیم الایام سے صنعت و حرفت ذلیل پیشے خیال کئے جاتے ہیں اور اہل صنعت و حرفت دوسری قوموں کی نسبت ادنی خیال کئے جاتے ہیں۔کیونکہ جو کام کلی طور پر غلاموں کے سپرد ہوں گے وہ لازماً غلاموں سے تعلق رکھنے کی وجہ سے حقیر خیال کئے جائیں گے۔اس زمانہ میں صنعت و حرفت سے تعلق رکھنا گویا اپنے غلام ہونے کا ثبوت دینا تھا۔جب غلامی کا دور کم ہوا اور صنعت و حرفت کو آزا دلوگوں نے بھی اختیار کر لیا تو بوجہ اس کے کہ اکثر پیشہ ور جو گو خود غلام نہ تھے مگر غلاموں کی اولاد تھے حقیر خیال کئے جاتے تھے اور ان کی وجہ سے دوسرے لوگ بھی جو ان کی طرح پیشہ اختیار کرتے تھے ذلیل