سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 286

سيرة النبي علي کلی طور پر دنیا سے مٹایا نہیں جاسکتا۔286 جلد 3 غلامی کا مفہوم غلامی کا کیا مفہوم ہے؟ یہی کہ ایک شخص دوسرے کی مرضی کے پورے طور پر تابع ہو جاتا ہے یا تابع کر دیا جاتا ہے۔اب اگر ایک شخص کا دوسرے کی مرضی کے تابع ہو جانا ایک برافعل ہے تو جس طرح کلی طور پر تابع ہونا برافعل ہے اسی طرح جزئی طور پر تابع ہونا بھی برا فعل ہوگا۔جزئی غلامی لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کا سب کارخانہ اس جزئی غلامی پر قائم ہے۔بچہ جس وقت سکول میں جاتا ہے سکول کے نظام کے ماتحت ہوتا ہے۔اس نظام کے قائم کرنے میں اس سے کوئی رائے نہیں لی جاتی، اس کے اوقات کے متعلق اس سے کوئی رائے نہیں لی جاتی ، اس کے استادوں کے انتخاب میں اس سے کوئی رائے نہیں لی جاتی ، اگر وہ اس نظام کو تو ڑتا ہے تو اسے بدنی سزا تک بھی دی جاتی ہے۔اب اس بچہ میں اور ایک غلام میں کیا فرق ہے؟ یہی نا کہ غلام چوبیں گھنٹے کا غلام ہوتا ہے اور یہ صرف پانچ چھ گھنٹے کے لئے غلام بنتا ہے۔اور یا یہ فرق ہے کہ غلام کی خدمات کا نفع دوسرا شخص اٹھاتا ہے اور اس طالب علم کی خدمت کا نفع خود اسی کو پہنچتا ہے۔مگر جبر اور نظام کی اندھا دھند پابندی جو غلامی کے مفہوم کا جزو اعلی ہے وہ یہاں بھی موجود ہے۔غلامی کی تمام صورتیں بری نہیں پس ہم اس نظارہ کو دیکھ کر یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ سارے وقت کی غلامی اور وہ غلامی جو دوسرے کے فائدہ کیلئے ہو بری ہے لیکن وہ غلامی جو عارضی ہو اور اس کا فائدہ خود ہم کو پہنچتا ہو وہ بری نہیں۔لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ غلامی اپنی ذات میں تمام صورتوں میں بری ہے۔بچہ کی غلامی لیکن طالب علم سے بھی بڑھ کر ہم کو ایک اور غلامی معلوم ہوتی ہے اور وہ وہ غلامی ہے جو بچوں سے ماں باپ کراتے ہیں۔ہر بچہ اپنی