سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 264
سيرة النبي عمال 264 جلد 3 اس قسم کے لوگوں میں سے وہ لوگ بھی ہیں جو آئے دن عیسی علیہ السلام کی زندگی کا وعظ کرتے پھرتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ چوتھے آسمان پر بجسد عنصری بیٹھے ہیں اور کسی زمانہ میں آسمان سے اتر کر لوگوں کو اپنا تابع بنائیں گے۔آہ! یہ لوگ کبھی خیال نہیں کرتے کہ وہ رسول جس کے احسانوں تلے ان کا بال بال دبا ہوا ہے اور جسے خدا تعالیٰ نے سب انسانوں سے افضل قرار دیا ہے اور جو اپنی قوت قدسیہ میں کیا ملائکہ اور کیا انسان سب پر فضیلت لے گیا ہے اس ذریعہ سے وہ اس کی ہتک کرتے ہیں اور ایک ایسے شخص کو جو اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوتا تو آپ کی غلامی میں فخر محسوس کرتا آپ کے وجود پر فضیلت دیتے ہیں۔یہ امر ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی شخص نے خدا تعالیٰ کے دین کیلئے تکلیف نہیں اٹھائی۔آپ مکہ میں تیرہ سال تک ایسی تکلیفات برداشت کرتے رہے ہیں کہ ایسی تکلیفات کا ایک سال تک برداشت کرنا بھی انسان کی کمر توڑ دیتا ہے اور آپ کے اتباع اور جاں نثار مرید بھی نا قابل برداشت ظلموں کا تختہ مشق بنے رہے ہیں۔اس کے مقابل پر مسیح علیہ السلام اور ان کے حواریوں کی قربانیاں کیا ہستی رکھتی ہیں۔وہ اپنی جگہ کتنی ہی شاندار کیوں نہ ہوں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے مقابلہ میں کچھ بھی قیمت نہیں رکھتیں۔اول تو حضرت مسیح کا زمانہ تبلیغ ہی گل تین سال بتایا جاتا ہے۔پھر اس قلیل زمانہ میں بھی سوائے دو چار گالیوں اور ہنسی مذاق کے اور کوئی تکلیف نہیں جو ان کے مخالفوں نے انہیں دی ہو۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ہی وقت میں تین سال تک ایک تنگ وادی میں محصور رکھا گیا ، کھانا پینا بند کیا گیا ، آپ سے خرید و فروخت کرنے والوں پر ڈنڈ مقرر کیا گیا۔غرض اس قدر دکھ دیئے گئے کہ آپ کی زوجہ مطہرہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا ان تکالیف کی سختی کی وجہ سے بیمار ہو کر فوت ہو گئیں۔کھانے کی تنگی کی وجہ سے آپ کے صحابہ فرماتے ہیں کہ ہم پتے کھانے پر مجبور ہوتے تھے جس