سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 258
سيرة النبي عليه عرفان جس کے متعلق کہا جا سکتا ہے 258 بہر رنگے کہ خواہی جامہ مے پوش من انداز قدت را می شناسم جلد 3 خواہ خدا بدھ کی شکل میں یا کنفیوشس کی شکل میں یا زرتشت کی شکل میں یا کرشن اور رام چندر کی شکل میں یا موسی اور عیسی کی شکل میں یا کسی اور شکل میں جلوہ گر ہوا رسول کریم ﷺ نے دیکھ لیا۔بعض لوگ کہتے ہیں محمد علی نے گزشتہ انبیاء سے آخر میں پیدا ہوئے تو اس سے انہیں کیا فضیلت حاصل ہو سکتی ہے۔میں کہتا ہوں ذرا سوچو تو سہی ساری دنیا خدا کی اولاد کی طرح ہے۔اگر چہ باپ بیٹے کے نقشوں میں بڑا فرق ہوتا ہے مگر پھر بھی کہیں نہ کہیں ضروری جھلک پائی جاتی ہے اور بیٹے کی باپ سے مشابہت ظاہر ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی جو تمام انسانوں کا خالق ہے اس کی مشابہت بھی مخلوق سے ہونی چاہئے۔اور اعلیٰ درجہ کے بندوں سے زیادہ اس کی مشابہت ہونی چاہئے۔یہ بالکل ممکن ہے کہ ایک چھوٹا بھائی گم ہو جائے اور جب کہیں ملے تو بڑا بھائی اسے پہچان لے مگر اس سے چھوٹا جو گم ہونے والے کے بعد پیدا ہوا وہ اگر گم ہونے والے بھائی کو پہچان لے تو ان میں سے ا کون بڑا عارف ہو گا؟ یقیناً وہی بڑا عارف ہوگا جس کے دیکھنے سے بھی پہلے اس کا بھائی گھر سے نکل گیا تھا۔مگر جب اس نے دیکھا تو اسے فوراً پہچان لیا۔ایک بھائی دوسرے بھائی کو کس طرح پہچانتا ہے؟ اسی طرح کہ اس میں اپنے باپ کی کچھ نہ کچھ صلى الله مشابہت پالیتا ہے اور اس طرح بھائی کا پہچاننا باپ کا پہچانا ہوتا ہے۔جب محمد عدی نے اپنے بعض نبی بھائیوں کو بعد میں آ کر پہچان لیا تو اس کا یہ مطلب ہوا کہ جس جس میں بھی یہ مشابہت پائی جائے گی اسے رسول کریم ﷺ نے پہچان لیا۔اس میں صرف محمد ﷺ نے پہچان لیا۔اس میں صرف محمد عہ ہی مخصوص ہیں۔اور انبیاء نے اپنے اندر خدا تعالیٰ کو پہچانا مگر رسول کریم ﷺ نے اپنے ہی اندر خدا تعالیٰ کو نہ پہنچانا بلکہ