سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 256

سيرة النبي علي 256 جلد 3 لاکھوں انسان تو بستے ہوں گے ، اس آگ میں کود پڑتے ہیں اور وہ ایسی جنگ کراتا ہے جو آج تک نہایت ہولناک جنگ سمجھی جاتی ہے۔اسے اپنے ملک کے لوگ نہیں پہچان سکتے لیکن دور عرب میں جہاں اسے کوئی نہیں جانتا تھا، جہاں کے بسنے والے اس کی قوم کو برا سمجھتے تھے مکہ کی چھوٹی سی بستی میں بیٹھا ہوا انسان آنکھ اٹھا کر مشرق کی طرف دیکھتا ہے تو اسے ایک ایسا چہرہ نظر آتا ہے جسے لوگ سیاہ کہتے ہیں۔مگر اسے وہ چمکتا ہوا نظر آتا ہے۔اور کہتا ہے اس دُور ملک میں اپنے محبوب کو اس میں جلوہ گر دیکھا۔وہاں بھی میرا خدا ظاہر ہوا اور اس جگہ بھی اس نے جلوہ نمائی کی۔ایک ایسے ملک میں جس سے اس کی قوم کو نہ صرف کوئی تعلق نہ تھا بلکہ عداوت تھی اور ایسے انسان میں جسے اس کی اپنی قوم گمراہ خیال کرتی تھی۔رسول کریم علیہ نے خدا کا نظارہ دیکھ لیا۔اس سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کے جلوہ کو دیکھنے کا اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے۔پھر اسی ہندوستان میں ایک اور مثال دیکھتے ہیں کہ ایک بچہ بادشاہ کے گھر پیدا ہوتا ہے۔اسے ہر قسم کی نعمتیں حاصل ہیں۔باپ پیدا ہوتے ہی اسے الگ محل میں بند کرا دیتا ہے کیونکہ اس نے خواب میں دیکھا تھا کہ اس کا لڑکا حکومت کو چھوڑ چھاڑ کر گھر سے نکل جائے گا۔اس وجہ سے اس نے یہ انتظام کیا کہ اس بچہ کی نظر سے کوئی دکھ اور مصیبت کا نظارہ نہ گزرے۔آخر وہ بچہ ایک دن کسی طرح اس محل سے باہر نکلا۔اور بادشاہ نے حکم دے دیا کہ جدھر سے گزرے وہاں کوئی مصیبت زدہ اس کے سامنے نہ آئے۔مگر خدا کی مرضی راستہ میں ایک اپاہج پڑا ہوا مل گیا۔لوگوں نے اسے الگ ڈال دیا۔مگر شہزادہ اسے دیکھ کر ٹھہر گیا اور پوچھا یہ کیا چیز ہے، میں نے تو ایسی چیز کبھی نہیں دیکھی۔مصاحبین نے شہزادہ کی توجہ اس سے ہٹانی چاہی مگر اس پر بڑا اثر ہوا اور اس نے اصرار سے اپاہج کی حالت دریافت کی اور کہا ایسی چیز ہمارے محل میں تو نہیں ہوتی۔آخر وہ محل میں گیا اور اپاہج کے متعلق سوچتا رہا۔کئی دن کے بعد پھر سیر کے لئے نکلا۔بادشاہ نے مصاحبین کو تاکید کردی کہ کوئی مصیبت زدہ اس کے سامنے نہ آئے۔