سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 255
سيرة النبي عليه 255 بہر رنگے کہ خواہی جامہ مے پوش من انداز قدت را می شناسم جلد 3 اپنے معشوق سے کہتا ہے تم کسی قسم کے بھی کپڑے پہن لو میری نظر سے تم چھپ نہیں سکتے۔مجھے تمہارے قد کا اندازہ ہے اس لئے میں تمہیں ہر قسم کے کپڑوں میں پہچان لیتا ہوں۔جب ایک مجازی عاشق اپنے معشوق کی محبت میں اتنی ترقی کر جاتا ہے اور معشوق کے قد کا اندازہ ایسا صحیح طور پر لگا لیتا ہے کہ ایک بال بھر بھی فرق نہیں آنے دیتا تو کس طرح ممکن ہے کہ ایک حقیقی عاشق اپنے معشوق کو جہاں دیکھے نہ پہچان لے۔غرض عرفان کا دوسرا درجہ یہ ہے کہ عارف جہاں بھی خدا تعالیٰ کا جلوہ دیکھے پہچان لے۔یہ کیا پہچان ہوئی کہ اگر خدا کو اللہ کہا جائے تو پہچان لے لیکن کوئی گاڈیا پر میشور کہے تو نہ پہچانے۔حقیقی عرفان یہی ہے کہ کسی نام، کسی شکل اور کسی لباس میں وہ چیز ہو تو اسے پہچان لیا جائے۔خدا تعالیٰ کا حسن، اس کا جلال اور اس کے کرشمے ہر گوشہ اور ہر حصہ دنیا میں نظر آنے چاہئیں۔اس بات کو مدنظر رکھ کر ہم ہندوستان میں دیکھتے ہیں تو پرانے زمانہ میں یہ نظارہ نظر آتا ہے کہ ایک انسان جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ سیاہ فام تھا۔سیاہ فام ہو اس سے ہمیں کیا۔ہمیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کا دل گورا تھا۔وہ ہندوستان میں پیدا ہوتا ہے اور ملک کی حالت خراب دیکھ کر کڑھتا ہے۔اہل ملک کو جوئے ، شراب اور دوسرے گندوں میں مبتلا پا کر ان کی اصلاح کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور لوگوں کو اس بات کے لئے تیار کرتا ہے کہ خون سے ہر قسم کے گندے اور نا پاک داغوں کو دھو دیں۔لوگ اس کی باتیں سنتے اور اس پر ہنستے ہیں کہ یہ اپنے آپ کو خدا کا اوتار کہتا ہے مگر انسانوں کی گردنوں پر تلوار میں چلا کر ان کی اصلاح کرنا چاہتا ہے۔حتی کہ اس کو ماننے والے بھی اسے کہتے ہیں کیا خدا خون سے خوش ہوتا ہے کہ انسانوں کے خون بہائے جائیں ؟ مگر وہ انسان اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے اور سارے ہند میں وہ آگ لگا دیتا ہے کہ اس وقت تینتیس کروڑ نہ سہی لیکن۔