سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 252
سيرة النبي علي 252 أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبِ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ جلد 3 و میں جھوٹا نبی نہیں ہوں۔میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔یہ ایسا وقت تھا جب کہ وہ جانباز مسلمان سپاہی جو نہایت قلیل تعداد میں ہوتے ہوئے سارے عرب کو شکست دے چکے تھے بارہ ہزار کی تعداد میں ہوتے ہوئے چار ہزار کے مقابلہ سے بھاگ نکلے تھے۔جب رسول کریم ﷺ کے ارد گرد صرف چند آدمی رہ گئے تھے، جب ہر طرف سے دشمن بارش کی طرح تیر برسا رہے تھے آپ آگے ہی آگے بڑھ رہے تھے۔اُس وقت آپ نے یہ سمجھا کہ میرا یہ فعل دیکھ کر لوگ مجھے ہی خدا نہ سمجھ لیں۔اس لئے آپ نے فرمایا میں نبی ہوں۔ہاں اپنے اندر خدا کو دیکھ رہا ہوں۔لوگ مجھے خدا دیکھ رہے ہوں گے۔اس لئے میں کہتا ہوں کہ اَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِب أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ میں نبی ہوں اور عبدالمطلب کا بیٹا ہوں، خدا نہیں ہوں۔یہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عرفان کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے۔پھر کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان زندگی بھر دھوکا میں مبتلا رہتا ہے مگر موت کے وقت اس پر اصل بات کھل جاتی ہے۔عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ایسے ملہم جو دماغ کی خرابی کی وجہ سے الہام کا دعویٰ کرتے ہیں مرنے سے قبل معافی کے خط لکھ دیتے ہیں اور تسلیم کر لیتے ہیں کہ وہ غلطی میں مبتلا تھے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عرفان اس درجہ کمال پر تھا کہ آپ کی آخری گھڑیوں کے متعلق لکھا ہے اُس وقت آپ کی زبان پر اس مفہوم کے الفاظ تھے کہ خدا تعالیٰ یہود اور عیسائیوں پر لعنت کرے۔انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا 10 اس موقع سے یہود اور عیسائیوں کا کیا تعلق تھا۔سننے والے تو مسلمان تھے پھر رسول کریم ﷺ نے یہ کیوں فرمایا؟ اس لئے کہ مسلمان آپ کی قبر کو ایسا نہ بنا لیں۔اور اس کا خطرہ اس وجہ سے تھا کہ آپ کو معلوم تھا کہ لوگوں نے مجھ میں خدا کو دیکھا ہے۔اور اس بات کا یقین آپ کو آخر وقت میں بھی تھا۔صلى الله غرض رسول کریم و عرفان الہی کے ایسے اعلیٰ مقام پر پہنچے ہوئے تھے اور