سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 249

سيرة النبي علي 249 جلد 3 الله چلے گئے ہیں تو انہوں نے آپ کا تعاقب کیا۔عرب میں بڑے بڑے ماہر کھو جی ہوا کرتے تھے۔ان کی مدد سے تعاقب کرنے والے عین اُس مقام پر پہنچ گئے جہاں رسول کریم ﷺ اور حضرت ابو بکر بیٹھے تھے۔خدا کی قدرت کہ غار کے منہ پر کچھ جھاڑیاں اُگی ہوئی تھیں جن کی شاخیں آپس میں ملی ہوئی تھیں۔اگر وہ لوگ شاخوں کو صلى الله ہٹا کر اندر دیکھتے تو رسول کریم علیہ اور حضرت ابوبکر بیٹھے ہوئے نظر آ جاتے۔جب کھوجی وہاں پہنچے تو انہوں نے کہا کہ یا تو وہ آسمان پر چڑھ گئے ہیں یا یہاں بیٹھے ہیں اس سے آگے نہیں گئے۔خیال کرو اُس وقت کیسا نازک موقع تھا۔اُس وقت حضرت ابوبکر گھبرائے مگر اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ رسول کریم ﷺ کے لئے۔اُس وقت رسول کریم ﷺ نے فرمایا لَا تَحْزَنُ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَاہِ۔گھبراتے کیوں ہو، خدا تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔اگر رسول کریم ہے خدا تعالیٰ کو اپنی ذات میں نہ دیکھتے تو کس طرح ممکن تھا کہ ایسے نازک وقت میں گھبرا نہ جاتے۔قوی سے قوی دل گردہ کا انسان بھی دشمن سے عین سر پر آجانے سے گھبرا جاتا ہے۔مگر رسول کریم ہے کے بالکل قریب بلکہ سر پر آپ کے دشمن کھڑے تھے اور دشمن بھی وہ جو تیرہ سال سے آپ کی جان لینے کے درپے تھے اور جنہیں کھوجی یہ کہہ رہے تھے کہ یا تو وہ آسمان پر چڑھ گئے ہیں یا یہاں بیٹھے ہیں، اس جگہ سے آگے نہیں گئے۔اُس وقت رسول کریم علے فرماتے ہیں لَا تَحْزَنُ إِنَّ اللهَ مَعَنَا خدا تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے تمہیں گھبرانے کی کیا ضرورت ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا عرفان ہی تھا جس کی وجہ سے آپ نے یہ کہا۔آپ خدا تعالیٰ کو اپنے اندر دیکھتے تھے اور سمجھتے تھے کہ میری ہلاکت سے خدا تعالیٰ کے عرفان کی ہلاکت ہو جائے گی اس لئے کوئی مجھے ہلاک نہیں کر سکتا۔عروسة ایک دوسرے موقع پر رسول کریم ﷺ کا عرفان اس طرح ظاہر ہوا کہ مکہ کے قریب کا ایک آدمی تھا جس کا ابو جہل کے ذمہ کچھ قرضہ تھا۔اس نے ابوجہل سے قرضہ مانگنا شروع کیا مگر وہ لیت و لعل کرتا رہا۔اُس زمانہ میں مکہ کے شرفاء نے ایک سوسائٹی