سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 237

سيرة النبي علي 237 جلد 3 قرآن کریم کی ایک آیت یعنی قرآن کریم کے مفہوم کے سمجھنے کے لئے کسی بیرونی شہادت کی ضرورت نہیں ہوتی۔دوسری کی حفاظت کرتی ہے ہم نے خود ہی اس کے اندر ایسا سامان پیدا کیا ہوا ہے کہ غلطی فوراً پکڑی جاتی ہے اور غلطی کرنے والا اپنے معنوں کی قرآن کریم کے دوسرے حصوں سے تطبیق پیدا نہیں کر سکتا۔یہ قرآن کریم کا ایک ایسا معجزہ ہے کہ اس کی مثال بھی کسی اور کتاب میں نہیں مل سکتی۔دوسری کتب اس طرح لکھی ہوئی ہیں کہ اگر ایک حصہ کے معنوں کو بدل دیا جائے تو دوسرے حصے ہر گز اس غلطی کو ظاہر نہیں کرتے لیکن قرآن کریم کی ہر آیت کی حفاظت کرنے والی دوسری آیتیں موجود ہوتی ہیں۔جب کوئی شخص غلطی کرتا ہے تو فوراً وہ دوسری آیات اس غلطی کو ظاہر کر دیتی ہیں اور اس طرح غلطی کرنے والا پکڑا جاتا ہے۔غرض رسول کریم ﷺ بطور ملہم بھی سب ملہموں سے افضل ہیں کیونکہ آپ کا الہام زندہ ہے اور اس قدر زبر دست معجزانہ اثرات اپنے اندر رکھتا ہے کہ کوئی اور الہام اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور کوئی اور کتاب آپ کی کتاب کے مقابلہ میں نہیں (الفضل 25 اکتوبر 1930ء) 66 ٹھہر سکتی۔“ 1: المزمل : 2 تا 9 2: استثناء باب 34 آیت 10 مطبوعہ پاکستان بائبل سوسائٹی انار کلی لاہور 2011 ء 3: الحجر : 10 4 تا 7 : دی کران مصنفه سرولیم میورصفحہ 39 ، 40 مطبوعہ لندن 1878ء