سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 236
سيرة النبي علي 236 جلد 3 قرآن کریم کے مفہوم کی حفاظت کا معجزہ دوسری مثال کے طور پر میں مفہوم کو پیش کرتا ہوں۔اسی آیت کے ایک دوسرے کلام کی حفاظت کئی طرح ہوتی ہے۔اس کے لفظوں کی حفاظت کے ذریعہ سے بھی اور اس کے مفہوم کی حفاظت کے ذریعہ سے بھی اور اس کے اثر کی حفاظت کے ذریعہ سے بھی۔میں لفظوں کے علاوہ اس کے مفہوم کی حفاظت کے معجزہ کو پیش کرتا ہوں۔بالکل ممکن ہے کہ ایک کتاب کے لفظ تو ایک حد تک موجود ہوں لیکن اس کا صحیح مفہوم سمجھنے والے لوگ نہ مل سکیں۔جیسے کہ وید ہیں کہ خواہ بگڑے ہوئے نسخے ہوں لیکن بہر حال اس میں سے کچھ نہ کچھ حصہ تو موجود ہے۔لیکن ویدوں کی زبان اب دنیا سے اس قدرمٹ چکی ہے کہ کوئی شخص یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وید کی عبارت کا مطلب کیا ہے۔شرک اور توحید، تو ہم پرستی اور ستارہ پرستی اور طب اور شہوانی تعلقات کی باریکیاں اور ہر قسم کی متضاد باتیں اس سے نکالی جاتی ہیں۔لفظ ایک ہوتے ہیں معنوں میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ایک قوم وام مارگ کی تعلیم اس سے نکالتی ہے تو دوسری ویدانت کی۔اور اختلاف مفہوم میں نہیں بلکہ ترجمہ میں ہوتا ہے اور ایک جگہ نہیں بلکہ شروع سے لے کر آخر تک سارے ہی وید میں اختلاف ہوتا ہے۔لیکن قرآن کریم کی زبان ایسی محفوظ ہے کہ گو بعض جگہ پر ایک لفظ کے مختلف معانی کی وجہ سے معنوں کا اختلاف ہو جائے لیکن اول تو وہ اختلاف محدود ہوتا ہے دوسرے اس کا حل خود قرآن کریم میں موجود ہوتا ہے۔یعنی اس کے غلط معنی کرنے ممکن ہی نہیں ہیں کیونکہ قرآن کریم اپنی تفسیر خود کرتا ہے۔اور اگر کوئی شخص غلط معنی کرے تو دوسری جگہ کسی اور آیت سے ضرور اس کے معنوں کی غلطی ثابت ہو جاتی ہے اور اس طرح وَ إِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔