سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 232

سيرة النبي علي 232 جلد 3 چھوڑ دیا " والا فقرہ ملانے کا موجب کب ہوسکتا ہے؟ غرض دوسرے سب مذاہب کی الہامی کتب ایسی مخدوش حالت میں ہیں کہ اس مقابلہ کی طرف آنے سے ان کے مبلغوں کی روح کا نپتی ہے۔اور یہی حال دوسری کلام کی خوبیوں کا ہے۔اس وجہ سے کلام کے معجزہ کی طرف یہ لوگ کبھی نہیں آتے۔حالانکہ کلام کا معجزہ دوسرے معجزوں سے زبر دست ہوتا ہے کیونکہ اس کا ثبوت ہر وقت پیش کیا جا سکتا ہے۔جب کہ دوسرے معجزات ایسے ہیں کہ روایات کے غبار میں غائب ہو جاتے ہیں اور جب تک دوسرے شواہد ساتھ نہ ہوں سچے اور جھوٹے میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔کلام کا معجزہ جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے کئی شاخیں رکھتا ہے اور قرآن کریم کا معجزہ ان تمام شاخوں میں مکمل اور اکمل ہے۔لیکن ایک اخبار کے مضمون میں اس قدر گنجائش نہیں ہو سکتی کہ ہر ایک بات بیان کر دی جائے۔نہ ہر امر تفصیل سے بیان ہوسکتا ہے۔اس لئے میں صرف اس معجزہ کے دو پہلوؤں کو اختصار سے بیان کرتا ہوں۔اور چیلنج دیتا ہوں کہ اگر کوئی اور کتاب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے کی مدعی ہے تو اس کے پیرو اس معجزہ کے مقابلہ میں اسے پیش کریں اور دیکھیں کہ کیا ان کی کتاب ایک ذرہ بھر بھی اس کتاب کا مقابلہ کر سکتی ہے؟ پہلی مثال جو میں پیش کرنی چاہتا ہوں الفاظ قرآنیہ ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ 3 ہم ہی نے اس ذکر کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔یہ ایک عام قاعدہ ہے کہ جو چیز اپنی غرض کو پورا کر رہی ہوتی ہے ہم اس کی حفاظت کرتے ہیں۔اور جب وہ اس غرض کو پورا کرنے سے جس کے لئے اسے بنایا یا اختیار کیا گیا تھا رہ جاتی ہے تو ہم اسے پھینک دیتے ہیں۔پس اس میں کیا شک ہے کہ اگر کوئی کلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو جب تک اس کی ضرورت دنیا میں ہواس