سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 218
سيرة النبي علي 218 جلد 3 غارِ حرا میں پہلی وحی 29 دسمبر 1929 ء کو جلسہ سالانہ قادیان سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود نے فرمایا:۔”سب سے پہلی وحی غار حرا میں نازل ہوئی تھی جب جبرائیل رسول کریم ﷺ کو نظر آیا اور اس نے کہا اقرا یعنی پڑھ۔اس کے جواب میں رسول کریم ﷺ نے فرما یا ما اَنَا بِقَارِيَّ 1 میں پڑھنا نہیں جانتا۔مطلب یہ تھا کہ یہ بوجھ مجھ پر نہ ڈالا جائے۔کیونکہ اُس وقت آپ کے سامنے کوئی کتاب تو نہیں رکھی گئی تھی جسے آپ نے پڑھنا تھا بلکہ جو کچھ جبرائیل بتا تا وہ آپ کو زبانی کہنا تھا۔اور یہ آپ کہہ سکتے تھے مگر آپ نے انکسار کا اظہار کیا۔لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لئے آپ ہی کو چنا تھا اس لئے بار بار کہا کہ پڑھو۔آخر تیسری بار کہنے پر آپ نے پڑھا اور جو کچھ پڑھا وہ یہ تھا۔اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبَّكَ الَّذِي خَلَقَ - خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ - اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ - الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ - عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمُ 2۔کیا ہی مختصر سی عبارت اور کتنے تھوڑے الفاظ ہیں مگر ان میں وہ حقائق اور معارف بیان کئے گئے ہیں جو اور کتابوں میں ہرگز نہیں پائے جاتے۔دوسری کتابوں کو دیکھو تو وید یوں شروع ہوتے ہیں۔اگئی میئر ھے پر وہتم“۔آگ ہماری آتا ہے۔بائبل کو دیکھو تو اس میں زمین و آسمان کی پیدائش کا یوں ذکر ہے :۔ابتدا میں خدا نے آسمان کو اور زمین کو پیدا کیا۔اور زمین ویران اور سنسان تھی 66 اور گہراؤ کے اوپر اندھیرا تھا۔اور خدا کی روح پانیوں پر جنبش کرتی تھی 3۔“