سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 215
سيرة النبي علي 215 جلد 3 بچپن کی شادی کے بارہ میں سنتِ رسول 28 دسمبر 1929ء کو جلسہ سالانہ کے موقع پر مستورات سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بچپن کی شادی کے بارہ میں سنت پر درج ذیل الفاظ میں روشنی ڈالی :۔بعض ایسی اجازتیں ہیں جن کا شریعت نے ضمناً ذکر نہیں کیا بلکہ انہیں شریعت کا جز و بنا لیا ہے اور کہہ دیا ہے یہ باتیں کرو تو ان کے متعلق یہ یہ حکم ہے۔ان اجازتوں میں کسی کا دخل دینا بہت زیادہ برا ہے۔بچپن کی شادی بھی انہی میں سے ہے۔شریعت نے اس کی اجازت دی اور اس کے لئے بعض احکام بیان کئے کہ لڑکی بالغ ہو کر چاہے تو ایسی شادی سے انکار کر سکتی ہے۔پھر اسی اجازت کی ایک قسم یہ ہے کہ رسول کریم علی اللہ نے اس پر خود عمل کیا ہو اور بچپن کی شادی ایسی ہی اجازت ہے کہ رسول کریم می نے اس پر عمل کیا۔یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کے ساتھ بچپن میں نکاح کیا۔اور 12 سال کی عمر میں ان کا رختصانہ ہو گیا۔یہ صحیح ہے کہ عرب میں بلوغت جلد ہو جاتی ہے اور یہ بھی صحیح ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کے قومی اعلیٰ درجہ کے تھے الله لیکن ان کی عمر 12 سال کی تھی جب رسول کریم ﷺ کے ہاں تشریف لے گئیں۔اب اگر ان کی عمر کے متعلق یہ انتظار کیا جاتا کہ 17 ، 18 سال کی ہو جاتی تو صرف ایک سال انہیں رسول کریم ﷺ کی صحبت میں رہنے کا موقع ملتا اور دین کی بہت سی باتیں نامکمل رہ جاتیں۔مگر جو عرصہ انہیں ملا اس میں انہوں نے دین کی بڑی خدمت کی۔اسی لئے ضروری تھا کہ رسول کریم علیہ کے پاس انہیں ایسے وقت میں خدا تعالیٰ