سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 214
سيرة النبي علي 214 جلد 3 رسول کریم ﷺ کی سیرت کے حوالے سے علی جماعت کو ایک نصیحت 28 دسمبر 1929 ء کو جلسہ سالانہ کے موقع پر حضرت مصلح موعود نے فرمایا:۔اس وقت میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ بعض مقامات کے متعلق شکایت آئی ہے کہ رسول کریم ﷺ کی سیرت کے متعلق جلسوں کے انعقاد میں چونکہ غیر احمدیوں سے کام لینا پڑا اس لئے بعض لوگوں میں مداہنت پیدا ہوگئی ہے۔میں کسی کا نام نہیں لیتا مگر ایسے لوگ خود اپنے نفسوں میں غور کر لیں۔اگر اصل چیز ہی مٹ جائے تو پھر ایسے جلسوں اور ان میں تقریروں کا کیا فائدہ۔ایسے جلسوں کے لئے مسلمانوں کے پاس جاؤ اور انہیں کہو آؤ یہ ہمارا متحدہ کام ہے تم بھی اس میں شامل ہو جاؤ۔اگر وہ شامل ہوں تو بہتر ورنہ ان کی منتیں اور خوشامد میں نہ کرو۔اگر وہ رسول کریم ﷺ کی تعریف اور شان کے اظہار کے لئے جلسوں میں شامل ہوں گے تو برکات حاصل کریں گے اور اس کا فائدہ انہیں خود پہنچے گا۔ہمارا ان کے شامل ہونے سے کوئی فائدہ نہیں۔لیکن یاد رکھو! ان کی بے جا رضامندی کے لئے اپنا دین تباہ نہ کرو۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تمہاری ہدایت میں کسی کے گمراہ ہونے کی وجہ سے فرق آتا ہے تو گمراہ ہونے والے کی پرواہ نہ کرو تم میں اگر کسی جگہ کوئی اکیلا ہی ہو اور اس کے ساتھ کوئی شامل نہ ہو تو وہ جنگل کے درختوں کے سامنے جا کر محمدعلی کی تعریف کرنا شروع کر دے۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ اپنی ذمہ داری سے بری سمجھا جائے گا اور اس کا نتیجہ بھی نکلے گا۔“ الفضل 7 جنوری 1930ء)