سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 202

سيرة النبي علي 202 جلد 3 فائدہ حاصل ہوتا تھا ، کونسی جاگیر مل جاتی تھی یہ صرف لوگوں کے فائدہ کے لئے آپ نے تعلیم دی۔اسی طرح چوری کرنے سے منع فرمایا۔اس سے بھی آپ کی ذات کو کچھ فائدہ نہ صلى الله تھا صرف لوگوں کے بھلے کے لئے فرمایا۔آنحضرت عے کے گھروں میں تو بعض اوقات کھانے کو بھی کچھ نہ ہوتا تھا اس حالت میں یہ خیال نہیں کیا جا سکتا کہ آپ نے جو چوری سے منع فرمایا تو اس لئے کہ تا آپ کے گھر محفوظ رہیں بلکہ یہ حکم صرف لوگوں کے اموال کی حفاظت کیلئے دیا۔اسی طرح آپ نے ظلم کرنے سے منع فرمایا۔یہ حکم بھی اس لئے دیا تا لوگ ایک دوسرے کے ظلم سے بچیں ورنہ آنحضرت مہ خود تو علیحدگی میں عبادت کر کے اپنا وقت گزارتے تھے۔پس جو بھی تعلیم رسول کریم ﷺ نے لوگوں کو دی نہ تو اس میں کوئی برائی تھی اور نہ آپ کی اس میں کوئی ذاتی غرض تھی۔آپ نے جھوٹ سے منع فرمایا اس میں کونسی بری بات تھی ، چوری سے منع فرمایا اس میں کونسی بری بات تھی ، بدکاری سے منع فرمایا اس میں کونسی بری بات تھی ، عرب لوگ شراب سے ست رہتے تھے ان کو شراب پینے سے منع فرمایا اس میں کونسی بری بات تھی مگر با وجود اس کے پھر بھی لوگوں نے آپ کو سخت تکلیفیں دیں۔آپ کے ماننے والوں پر ایسے ظلم وستم ڈھائے کہ وہ ہمیشہ مصائب کا تختہ مشق بنے رہے۔ان تکالیف سے تنگ آ کر بعض صحابہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے اور ہجرت کر کے حبشہ میں جا کر پناہ گزیں ہوئے مگر مکہ والوں کی اس سے بھی تسلی نہ ہوئی کہ چار پانچ سو کوس پر بھی وہ اپنے غریب ہم وطنوں کو آرام سے بسنے دیں۔انہوں نے حبشہ کے بادشاہ کو تحفے بھیج کر اس بات کے لئے رضامند کرنا چاہا کہ وہ مسلمانوں کو اپنے ملک سے نکال دے لیکن جب یہ تدبیر کارگر نہ ہوئی تو بعض ان میں سے حبشہ پہنچے۔ان میں سے ایک عمرو بن عاص بھی تھے جو بعد میں بہت بڑے صحابی ہوئے انہوں نے مصر فتح کیا تھا۔انہوں نے جا کر حبشہ کے بادشاہ سے کہا یہ لوگ ہمارے غلام ہیں اور بغاوت کر کے وہاں