سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 11
سيرة النبي عمال 11 جلد 3 تکالیف برداشت کیں۔اس قسم کی باتیں بیان کرنے سے ہندو اور دوسرے غیر مسلم لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔لیکن مجالس میلاد میں جس قسم کے وعظ کئے جاتے ہیں ان کا چھڑانا مشکل ہے۔اور اگر ان مجالس میں صرف مسلمان ہی ہوں تو غیر مذاہب والے فائدہ نہ اٹھا سکیں گے اس وجہ سے اس موقع کو ایسے لیکچروں کے لئے منتخب نہیں کیا گیا۔پھر ایک اور بات یہ ہے کہ مسلمانوں میں ایسے فرقے ہیں جو میلا د کو عبادت سمجھتے ہیں اور اس میں ایسے مواقع آتے ہیں جب کہ ان کے نزدیک کھڑا ہونا ضروری ہوتا ہے اور اگر کوئی کھڑا نہ ہو تو اسے اپنے مذہب کی ہتک سمجھتے ہیں۔مگر کئی فرقے ایسے ہیں جو کھڑا ہونا ضروری نہیں سمجھتے جیسے اہلحدیث اور ہم احمدی۔اگر ایسا جلسہ ہو اور اس میں اہلحدیث یا احمدی کھڑے نہ ہوں تو دوسرے لوگ برا منائیں گے اور اگر کھڑے ہو جائیں تو اپنے اصل کے خلاف کریں گے اور اس طرح تفرقہ پیدا ہو کر ممکن ہے لڑائی جھگڑے تک نوبت پہنچ جائے۔ان وجوہات کے ماتحت میں نے ضروری سمجھا کہ اس قسم کا جلسہ میلاد کے دن نہ ہو بلکہ کسی دوسرے موقع پر ہو، تاکہ سارے مسلمان مل کر اس میں حصہ لے سکیں اور ان مولویوں کے لئے بھی مخالفت کی کوئی وجہ نہ ہو جو میلاد کے دن وعظ کرنا اپنا خاص حق سمجھتے ہیں۔اس تشریح کے بعد کہ کیوں میلاد کے دن کو اس جلسہ کے لئے منتخب نہیں کیا گیا اور یہ بتا دینے کے بعد کہ تاریخ بدل دی گئی ہے دوستوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ صرف لیکچروں کی تیاری کے لئے نام دے دینا کافی نہیں ہے۔یہ زمانہ اشاعت کا زمانہ ہے اور جب تک کسی بات کے متعلق پرو پیگنڈا نہ ہو اس میں کامیابی نہیں ہو سکتی۔اس وقت تک ایسے دوست تو بہت سے ہیں جنہوں نے لیکچروں کی تیاری کے لئے اپنے نام دیئے ہیں مگر اس بات کی ذمہ داری بہت کم لوگوں نے اٹھائی ہے کہ وہ اپنے ہاں اور ارد گرد کے دیہاتوں میں جلسے کرنے کے لئے لوگوں کو تیار کریں گے۔چونکہ یہ بھی نہایت ضروری بات ہے اس لئے اس کی طرف دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں۔اس وقت