سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 191

سيرة النبي علي 191 جلد 3 انہیں خدا کے مقابلہ میں پیش کیا جاتا ہو انہیں تم برا نہ کہو، ورنہ وہ بھی اس خدا کو گالیاں دیں گے جسے تم مانتے ہو۔اس طرح رسول کریم علیہ نے سخت کلامی سے روکا ہے۔پانچویں بات آپ نے یہ فرمائی کہ مذہب کے اختلاف کی وجہ سے کسی قوم پر حملہ نہیں کرنا چاہئے۔رسول کریم ﷺ سے پہلے سمجھا جاتا تھا جس قوم سے مذہبی اختلاف ہو صلى الله اس پر حملہ کر کے اس کو تباہ کرنے کا حق حاصل ہے۔لیکن رسول کریم ﷺ نے اس کے خلاف حکم دیا چنانچہ خدا تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ فرمایا وَ قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا تم جنگ کر سکتے ہومگر انہی سے جو تم پر حملہ آور ہوں۔مذہب کے اختلاف کی وجہ سے کبھی کسی پر حملہ نہ کرنا۔اسی طرح رسول کریم ﷺ نے غیر مسلموں کو حریت ضمیر عطا کی کہ خواہ کسی کا کوئی الله مذہب ہو اس وجہ سے کسی کو حق نہیں کہ اسے مارے یا نقصان پہنچائے۔چھٹا سلوک آپ نے یہ کیا کہ تمام دنیا کے لئے ہدایت کا رستہ کھول دیا۔پہلے کہا جاتا تھا کہ ہدایت صرف ہماری قوم کے لئے ہے مگر رسول کریم ﷺ نے سب کے لئے ہدایت کا دروازہ کھول دیا اور اپنی قوم اور دوسری قوموں میں کوئی فرق نہیں رکھا۔چنانچہ فرمایا إِنِّي رَسُولُ اللهِ اِلَيْكُمُ جَمِيعَ میں دنیا کی سب اقوام کے لئے رسول ہو کر آیا ہوں ، سب کو ہدایت کا رستہ دکھا سکتا ہوں۔ساتواں حق غیر مسلم اقوام کا یہ قرار دیا کہ فرمایا عہد وہی قائم نہیں رکھنا چاہئے جو اپنی قوم کے اندر ہوا ہو بلکہ خواہ کسی قوم سے عہد ہو اسے قائم رکھنا چاہئے۔لوگوں کو یہ بہت بڑی غلطی لگی ہوتی ہے اور اس غلطی میں وہ مسلمان بھی مبتلا ہو گئے ہیں جو قرآن کریم پر متد بر نہیں کرتے کہ غیروں سے جو عہد ہو اسے توڑ دینا کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔مگر رسول کریم ﷺ نے اس کے خلاف حکم دیا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے وَإِمَّا تَخَافَنَ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاء 10 کہ اگر کوئی قوم عہد توڑ دے تو اسے بتا دینا چاہئے کہ تم نے عہد توڑ دیا ہے اب ہم پر بھی عہد کی