سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 188
يرة النبي علي 188 جلد 3 چاہتے ہو تو ہم تمہیں مال جمع کر دیتے ہیں، اگر حکومت چاہتے ہو تو تمہیں اپنا حاکم ماننے کے لئے تیار ہیں، اگر خوبصورت عورت چاہتے ہو تو سارے عرب میں سے خوبصورت عورت پیش کرنے کے لئے تیار ہیں اور اگر دماغ خراب ہو گیا ہے تو اس کا علاج کرنے کے لئے بھی تیار ہیں مگر تم ہمارے بتوں کے خلاف کچھ نہ کہو۔جب یہ پیغام ایک رئیس نے آپ کو پہنچایا تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے کہ میری بے نفس خدمت کی ان لوگوں نے کیا قیمت ڈالی ہے اور جواب میں فرمایا اگر سورج کو میرے دائیں رکھ دو اور چاند کو بائیں اور کہو تو حید چھوڑ دوں تو یہ کبھی نہیں ہوسکتا۔پیغام لانے والا آپ کا بڑا سخت دشمن تھا مگر آپ کا جواب سن کر اس پر ایسا اثر ہوا کہ اس نے جا کر اپنے ساتھیوں سے کہا میں نے جو باتیں اس کے منہ سے سنی ہیں ان کی وجہ سے کہتا ہوں اس کی مخالفت چھوڑ دوور نہ تباہ ہو جاؤ گے۔غرض آپ کو دشمنوں کی طرف سے تمام تکلیفیں توحید کی اشاعت کی وجہ سے دی گئیں۔آپ کو مارا جاتا ، کتے اور لڑکے آپ کے پیچھے ڈالے جاتے۔ایک دفعہ آپ طائف گئے تو وہاں کے لوگوں نے اس قدر مارا کہ آپ سر سے لے کر پاؤں تک لہولہان ہو گئے۔آپ تکلیف کی وجہ سے گر پڑتے لیکن جب اٹھتے تو وہ لوگ پھر آپ پر پتھر پھینکتے۔ایسی حالت میں بھی آپ کے منہ سے یہی نکلتا خدایا ! ان لوگوں کو معاف کر دے کہ یہ حقیقت سے بے خبر ہیں۔ان تمام حالات میں سے گزرتے ہوئے آپ نے توحید کی تبلیغ کو نہیں چھوڑا اور یہی کہتے رہے کہ خواہ یہ کچھ کریں میں توحید کی تبلیغ نہیں چھوڑ سکتا۔پھر جب آپ کے وصال کا وقت قریب آیا تو اس وقت بھی یہی کہتے فوت ہوئے۔میرے بعد شرک نہ کرنا۔اور میں تو سمجھتا ہوں رسول کریم ع کی پیدائش کے وقت بھی خدا تعالیٰ نے اپنی توحید کا ثبوت آپ کے والد کو قبل از ولادت اور والدہ کو جلد بعد از ولادت فوت کر کے دیا۔آپ کی بے کسی کی ابتدا اور شاندار انجام خود خدا تعالیٰ کی توحید کا بڑا ثبوت تھا۔