سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 186

سيرة النبي عمال 186 جلد 3 ہے خدا کے تصرف کے ماتحت کرتا ہے اس کے مانے بغیر بھی تو حید کامل نہیں ہوسکتی۔آگے فرمایا وَلَا يَؤُودُهُ حِفْظُهُمَا وہ جو حفاظت کر رہا ہے اس میں کبھی ناغہ نہیں ہوتا، ہمیشہ جاری رہے گی۔وَهُوَ الْعَلِيُّ باوجود اس کے کہ ہر ذرہ ذرہ سے اس کی قدرت ظاہر ہو رہی ہے، وہ اتنا بلند ہے کہ کوئی خود بخود اس کی کنہ تک نہیں پہنچ سکتا۔الْعَظِیمُ مگر وہ بلندی پر ہی نہیں کہ کوئی اس کی کنہ تک نہ پہنچ سکے بلکہ وہ عظیم بھی ہے۔قدرتوں کے ظہور سے اتنا روشن ہے کہ ہر شخص جو کوشش کرے اسے پا سکتا ہے۔ہر شخص بڑی جلدی اس تک پہنچ سکتا اور اس کا وصل حاصل کر سکتا ہے۔پس بتایا کہ توحید کامل یہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے کامل اتحاد اور وصال ہو جائے۔جب کوئی خدا کو پالے اُس وقت اسے توحید کامل حاصل ہوگئی۔گو یا اتصال کا نام ہی تو حید ہے۔یہ وہ تو حید ہے جو رسول کریم علیہ نے پیش کی ہے کہ اسی دنیا میں خدا سے صلى الله ایسا وصل ہو جائے کہ انسان کا اپنا وجود مٹ جائے اور خدا ہی خدا باقی رہے۔تو حید کے معنی ہیں خدا تعالیٰ کو ایک بتانا اور ایک قرار دینا۔یعنی اپنی زبان کے اقرار کے علاوہ اپنے عمل سے بھی یہ ثابت کرنا کہ خدا ہی خدا ہے اور کچھ نہیں۔اگر خدا تعالیٰ کی مرضی سے انسان کی مرضی مطابقت نہیں رکھتی ، اگر خدا تعالیٰ کے ارادوں سے انسان کے ارادے نہیں ملتے تو وہ توحید کا سچا اقرار نہیں کرتا۔اصل توحید یہ ہے کہ الله انسان اپنے وجود کو مٹا کر دکھاوے کہ خدا تعالیٰ ہی کی مرضی دنیا میں چلتی ہے۔پھر رسول کریم ﷺ نے دلائل سے شرک کا رد فر مایا ہے۔آپ نے شرک کے رد میں ایک دلیل یہ دی کہ کوئی چیز دنیا کی ایسی نہیں جو کسی دوسری چیز کی محتاج نہ ہو۔ہر ایک چیز دوسری کی محتاج ہے۔آسمان سے پانی برستا ہے اس کا تعلق سورج سے ہے۔گرمی پانی کو بخارات بنا کر اڑاتی ہے اور اس طرح بادل بنتے ہیں۔پھر اس سے زمین کی گردش کا تعلق ہے۔اسی طرح ہر چیز کا ایک سلسلہ چلتا ہے۔دہلی میں ایک بزرگ گزرے ہیں ان کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے ایک شاگرد سے پوچھا