سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 182

سيرة النبي عمال 182 جلد 3 کے نقطۂ نگاہ سے بھی دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے تو حید کے متعلق عظیم الشان تغیر پیدا کیا ہے۔کیونکہ ارتقا کے مسئلہ کے رو سے ماننا پڑتا ہے کہ دنیا نے آہستہ آہستہ ترقی کی لیکن توحید کے متعلق ساری ترقی آپ کے زمانہ میں مکمل ہو چکی تھی۔آپ نے توحید کی جو تشریح فرمائی اس کے بعد کوئی نئی تشریح آپ کے زمانہ میں یا آپ کے بعد نہیں نکلی۔اس لئے ماننا پڑے گا کہ خیال انسانی کا ارتقا آپ کی ذات میں آ کر مکمل ہوا اور دنیا کے لئے آپ ہی مقصد اعظم تھے۔جب آپ مبعوث ہو گئے تو پھر تو حید مکمل ہو گئی اور آپ نے توحید کی وہ تشریح پیش کر دی کہ اس کے بعد کسی اور تشریح کی ضرورت نہ رہی۔میرا اس سے یہ مطلب نہیں کہ رسول کریم ع سے پہلے جتنے رشی، منی اور رسول گزرے انہوں نے توحید کو ناقص طور پر پیش کیا کیونکہ تو حید کو ناقص رنگ میں پیش کرنے والا نبی ہی نہیں ہو سکتا۔جو بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے نبی ہو کر آیا اس نے مکمل تو حید پیش کی۔مگر اپنے زمانہ کے لحاظ سے مکمل پیش کی۔اگر مسئلہ ارتقا کو تسلیم کیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ رسول کریم عملے کے وقت تو حید کا نقطہ کمال کو پہنچ گیا اور ہمیشہ کے لئے مکمل ہو گیا۔صلى الله علمی لحاظ سے مسئلہ تو حید کی اہمیت اب میں علمی لحاظ سے مسئلہ توحید کی اہمیت پیش کرتا ہوں :۔اول: علم سائنس میں بغیر توحید کے ترقی نہیں ہوسکتی۔سائنس اس قانون کی دریافت کا نام ہے جو دنیا میں جاری ہے۔مثلاً یہ کہ آگ جلاتی ہے، پانی پیاس بجھاتا ہے۔غرض خواص اشیاء جو ایک مقررہ رنگ میں چلتے ہیں ان کا دریافت کرنا سائنس ہے۔اب اگر آگ کسی اور خدا نے پیدا کی ہو درخت کسی اور خدا نے ، پہاڑ کسی اور نے ، تو یہ چیزیں آپس میں موافقت نہیں رکھیں گی بلکہ ایک دوسری سے ٹکراتی رہیں گی۔لیکن جب یہ تسلیم کیا جائے کہ پر میشور ایک ہی ہے اور سب چیزیں اسی کے ماتحت