سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 181
سيرة النبي علي 181 جلد 3 الله ادیان میں پھر تو حید کی طرف رغبت پیدا ہوگئی اور پیدا ہوتی چلی جارہی ہے۔یہ تو مذہبی نقطہ نگاہ تھا۔ان دو اصول کے ساتھ رسول کریم ﷺ نے تو حید کے مسئلہ کو مضبوط کیا۔یوں کہنے سے کہ خدا ایک ہے لوگ نہ مان سکتے تھے جب تک ان کے دماغ میں ایسے احساسات نہ پیدا کئے جاتے کہ خدا تعالیٰ سب کا ہے اور سب کے لئے اس کی رحمت کا دروازہ کھلا ہے۔رسول کریم علیہ نے یہ بھی احساس پیدا کئے۔یہ تو مذہبی نقطہ نگاہ تھا۔ایک دنیوی نقطہ نگاہ سے بھی رسول کریم ﷺ نے اس مسئلہ کو پیش فرمایا ہے۔اور وہ اس طرح کہ کمپیریٹو ریلیجن (Comparative Religion) (یہ ایک نیا علم نکلا ہے کہ سب مذاہب کے اصول کو جمع کر دیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ مذاہب میں کتنی باتیں مشترک ہیں۔مثلاً یہ کہا جاتا ہے کہ سب مذاہب میں خدا کا خیال مشترک ہے ) والوں نے یہ خیال پیش کیا ہے کہ مذہب میں بھی اسی طرح ارتقا ہوتا چلا آیا ہے جس طرح دنیا میں۔وہ کہتے ہیں ہر چیز میں آہستہ آہستہ ترقی ہوتی ہے۔مذہب نے بھی آہستہ آہستہ ترقی کی ہے۔جسے وہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ پہلے انسان خدا کو نہ مانتے تھے بلکہ عناصر کی پرستش کرتے تھے اور عناصر کو خدا کاظل قرار دیتے تھے۔جب انسانوں نے ترقی کی تو عناصر کی بجائے ارواح کو خدا کاظل ماننے لگے اور اس طرح ترقی کرتے کرتے ایک خدا کے خیال پر قائم ہوئے۔اسی لئے وہ کہتے ہیں خدا تعالیٰ نے اپنے آپ کو نہیں منوایا بلکہ دنیا نے آہستہ آہستہ خدا کا کھوج نکال لیا۔یہ ان میں سے ان لوگوں کا قول ہے جو خدا تعالیٰ کی ہستی کے قائل ہیں۔وہ کہتے ہیں جس طرح مٹی کا تیل انسانوں نے کوشش کرتے کرتے نکال لیا وہ خود بخود نہ نکلا تھا اسی طرح خدا تو موجود تھا مگر کسی کو معلوم نہ تھا۔آخر ترقی کرتے کرتے اس کا پتہ لگا لیا گیا ، وہ خود ظاہر نہ ہوا۔لیکن جو خدا تعالیٰ کے قائل ہی نہیں وہ کہتے ہیں خدا کوئی نہیں۔دنیا نے اپنی عقل سے ایک نقشہ تجویز کر لیا ہے جسے خدا کہا جاتا ہے۔اس خیال کے لوگ یہ نہیں مانتے کہ کسی انسان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہو سکتا ہے۔ان۔