سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 177

سيرة النبي علي 177 جلد 3 اعتقاد ہو کہ پر میشور یا خدا نے نازل کی ہے۔غرض رسول کریم ﷺ ایسی قوم میں پیدا ہوئے جس کا کوئی مذہب نہ تھا۔وہ نہ وید کو الہامی مانتی تھی نہ توریت کو ، نہ انجیل کو نہ رند کو۔ایسے ملک اور ایسی قوم میں پیدا ہو کر رسول کریم علیہ نے تو حید کو ایسے کامل اور ایسے اعلیٰ رنگ میں پیش کیا کہ آپ کے مخالف بھی اس کی عظمت کو تسلیم کرتے ہیں۔پہلی چیز جو توحید کے قیام کے لئے رسول کریم علی نے پیش فرمائی وہ ایک ایسا نکتہ ہے جس کے متعلق دنیا نے اب بھی نہیں سمجھا کہ اس کا توحید سے کیا تعلق ہے۔وہ نکتہ یہ ہے کہ رسول کریم علیہ نے خدا تعالیٰ سے علم پا کر اعلان کیا کہ ساری دنیا میں نبی آتے رہے ہیں۔بظاہر اس امر کا توحید سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا مگر حقیقت یہ ہے کہ بغیر اس امر کو تسلیم کرنے کے تو حید ثابت ہی نہیں ہو سکتی۔بغیر یہ ماننے کے کہ مصر، ایران، ہندوستان، چین، جاپان، یورپ، امریکہ میں خدا نے نبی پیدا کئے تو حید کامل نہیں ہوسکتی۔رسول کریم ﷺ نے آکر اس پر بڑا زور دیا ہے۔چنانچہ قرآن میں آتا ہے اِن مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرُ 1 کہ کوئی قوم ایسی نہیں گزری جس میں خدا کا کوئی نبی نہ آیا ہو۔پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا ءِ کہ ہم 2 ہے نے ہر قوم میں رسول بھیجا۔اس کے ساتھ ہی تو حید کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا اَنِ اعْبُدُوا اللهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوت و ہم نے رسول اس لئے بھیجے کہ وہ لوگوں کو سکھائیں اللہ کی عبادت کرو اور غیر اللہ سے بچو۔پس رسول کریم ﷺ نے دنیا میں یہ نظریہ پیش کیا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ ہم میں ہی صداقت آئی باقی ساری دنیا کو خدا نے چھوڑے رکھا تھا۔حق یہ ہے کہ کوئی قوم ایسی نہیں گزری جس میں نبی اور رسول نہ آئے ہوں۔اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ کس طرح اس بات کا توحید سے تعلق ہے۔جب کوئی قوم یہ خیال رکھے کہ ہمارے اندر ہی خدا نے نبی یا اوتار بھیجے دوسری اقوام میں