سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 176

سيرة النبي عمال 176 جلد 3 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ کوئی قوم دنیا میں ایسی نہیں گزری جس میں کوئی نہ کوئی نبی ، اوتار، رشی اور منی نہ گزرا ہو۔یہ بات آپ نے اپنے پاس سے نہیں لکھی بلکہ قرآن کریم میں یہ بتایا گیا ہے۔رسول کریم ﷺ کا یہی خیال تھا اور پرانے آئمہ کا بھی یہی مذہب تھا۔اس عقیدہ کی موجودگی میں یہ کہنا کہ تو حید پہلے نہ تھی صلى الله بلکہ رسول کریم ﷺکے لائے تھے قرآن کریم کی تردید کرنا ہے۔جب قرآن بتاتا ہے کہ ہر قوم میں نبی آئے تو یقیناً ہر قوم میں تو حید بھی قائم ہوئی۔اگر آج کسی قوم میں توحید نہیں یا رسول کریم ہے جس وقت مبعوث ہوئے اُس وقت نہ تھی تو اس سے صرف یہ معلوم ہوا کہ اُس وقت وہ قوم تو حید سے تہی دست ہو چکی تھی نہ یہ کہ اس قوم میں جو نبی آیا اس نے تو حید کی تعلیم نہ دی تھی۔پس ہر وہ مذہب جو خدا تعالیٰ کو مانتا ہے اس میں توحید کی تعلیم دی گئی۔ہاں اس پر سب اقوام متفق ہیں کہ جس زمانہ میں رسول کریم ے آئے اُس وقت تو حید مٹ چکی تھی۔چنانچہ ہندوؤں کی کتابوں میں لکھا ہے کہ اُس وقت دنیا میں بڑی خرابی پیدا ہو چکی تھی ، مذہبی حالت بہت خراب ہو چکی تھی۔عیسائیوں کی کتابوں میں بھی لکھا ہے کہ اس وقت شرک پھیل چکا تھا اور لکھا ہے کہ اسلام کی اشاعت اور ترقی کی وجہ ہی یہ ہوئی کہ عیسائی قوم سے توحید جاتی رہی تھی۔عیسائیوں نے اسلام میں تو حید دیکھ کر اسے قبول کر لیا۔یہی بات زرتشتی کہتے ہیں کہ اُس زمانہ میں چونکہ زرتشتی لوگ تو حید چھوڑ چکے تھے انہیں مسلمانوں کی پیش کردہ تو حید پسند آگئی اور وہ مسلمان ہو گئے۔غرض یہ سب مذاہب کی کتابوں میں لکھا ہے کہ اُس وقت شرک پھیل گیا تھا، دنیا میں توحید نہ رہی تھی رسول کریم ﷺ نے اُس زمانہ میں پیدا ہو کر ایسے مقام میں پیدا ہو کر جو توحید سے بالکل ناواقف تھا وہاں کوئی مذہب ہی نہ تھا، کوئی ایسی کتاب نہ تھی جس کے متعلق کہا جاتا ہو کہ خدا کی طرف سے ملی ہے۔بلکہ وہ لوگ سمجھتے تھے ہمارے بزرگ جو بات کہہ گئے وہی مذہب ہے۔حالانکہ مذہب وہی کہلا سکتا ہے جس کے ماننے والوں کے پاس ایسی کتاب ہو جس کے متعلق ان کا