سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 163
سيرة النبي علي 163 جلد 3 ایک چیز بھی ایسی نہیں کہ جس کی سمجھ انسان کو براہ راست ہوسکتی ہے۔بلکہ ان میں سے ہر ایک شے ایسے دلائل کی محتاج ہے جو ہمیں روحانی اور عقلی طور پر ان کے قریب کر دیں۔ان سے ہمیں ایسا اتصال بخش دے کہ گویا ہم نے انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔امور مذکورہ بالا کی اہمیت اس امر سے ثابت ہے کہ جس قدر بھی مذاہب ہیں وہ کسی نہ کسی رنگ میں ان امور پر ایمان لانے کو ضروری سمجھتے ہیں اور کسی نہ کسی نام کے نیچے ان امور کو اپنے معتقدات میں شامل رکھتے ہیں خواہ تشریحات میں کس قدر ہی اختلاف کیوں نہ ہو۔پس جو شخص بھی ان امور پر ایمان لانے کو ہمارے لئے آسان کر دیتا ہے اور ہمیں ایسے مقام پر کھڑا کر دیتا ہے کہ جس جگہ کھڑے ہو کر ان امور کا گویا ایسا مشاہدہ ہو جاتا ہے کہ اس کے بعد کسی شک کی گنجائش ہی نہیں رہتی وہ نبوت کے کام کو اپنے کمال تک پہنچا دیتا ہے۔صفات الہی کا بیان رسول کریم ﷺ کی تعلیمات پر جب ہم غور کرتے ہیں اور آپ کے کام کو جب ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ مذکورہ بالا کام کو آپ نے ایسے بے نظیر طریق پر کیا ہے کہ اس کی مثال اور کہیں نہیں ملتی۔خدا تعالیٰ کے وجود کے متعلق سب سے پہلی چیز اس کی صفات کا بیان ہے۔ایک غیر محدود ہستی ہونے کے لحاظ سے وہ اپنی صفات ہی کے ذریعہ سے سمجھا جا سکتا ہے۔اگر کوئی شخص صفات الہیہ کو اس طرح بیان نہیں کرتا کہ ایک طرف تو اللہ تعالی کی عظمت دلنشین ہو اور دوسری طرف عقل ان کا اس حد تک ادراک کر سکے جس حد تک کہ ان کا سمجھنا انسانی عقل کے لئے ممکن ہو وہ ہرگز خدا تعالیٰ تک بندوں کو پہنچانے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔تو حید الہی رسول اللہ اللہ نے جو صفات خدا تعالی کی بیان کی ہیں وہ ایسی ہیں ﷺ کہ ایک طرف تو عقل انسانی ان سے تسلی پا جاتی ہے دوسری طرف وہ ایک غیر محدود اور قادر اور خالق ہستی کے بالکل شایان شان ہیں۔آپ ایک طرف