سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 162
سيرة النبي علي 162 جلد 3 نبی کے کام قرآن کریم نے نبی کے چار کام مقرر فرمائے ہیں جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا میں اس کا اشارہ ہے ان کی دعا قرآن کریم میں یوں نقل ہے رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتُبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ 2 اے ہمارے رب ! اہل مکہ میں ایک عظیم الشان رسول مبعوث فرما جو انہی میں سے ہو اور ان کو تیرے نشانات سنائے اور انہیں کتاب اور حکمت کی باتیں سکھائے اور انہیں پاک کرے۔ایک سرسری نگہ ڈالنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ نبی کے کاموں کا ایک بہترین نقشہ ہے جو اس دعا میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کھینچ دیا ہے۔نبی کا کام (1) اللہ تعالیٰ کی آیات کا سنانا۔(2) کتاب کا سکھانا۔(3 ) حکمت کی باتوں کی تعلیم دینا اور (4) لوگوں کے نفوس کو پاک کرنا ہے۔کیا اس سے زیادہ مختصر الفاظ میں کوئی اور نقشہ نبی کے کاموں کا کھینچا جا سکتا ہے؟ آؤ اب ہم دیکھیں کہ ان کاموں کے مطابق رسول کریم ﷺ کیسے ثابت ہوتے ہیں۔نبی کا پہلا کام آیات سنانا پہلا کام نبی کا آیات کا سنانا بتایا گیا ہے۔آیت کے معنی عربی زبان میں عبرت اور دلیل کے ہوتے ہیں۔جو چیز کسی اور چیز کی طرف راہنمائی کرے وہ آیت ہے۔پس آیات کے سنانے کا یہ مطلب ہوا کہ ایسی باتیں بتائیں جو امور غیبیہ پر ایمان لانے کا موجب ہوں کیونکہ امور غیبیہ ایسے امور ہیں کہ انسان ان تک خود نہیں رسائی پا سکتا۔خدا تعالیٰ کا وجود سب ، مقدم ہے بلکہ ایک ہی حقیقی وجود ہے مگر وہ اس قدر وراء الورا ہے کہ اس تک پہنچنا انسانی طاقت سے بالا ہے۔اُس تک پہنچنے کا ذریعہ محض وہ دلائل اور براہین اور وہ عرفان اور مشاہدہ ظہور صفات الہیہ ہو سکتا ہے جو ہمیں اس کے قریب کر دے اور اس کے وجود کے متعلق ہمارے دلوں میں کوئی شک باقی نہ چھوڑے۔یہی حال قانون قدرت کے ظہور کا اور ملائکہ کا اور رسالت کا اور کلام الہی کا اور بعثت مابعد الموت کا ہے۔ان میں سے