سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 161

سيرة النبي علي 161 جلد 3 ہوا:۔رسول کریم علیہ ایک نبی کی حیثیت میں حضرت مصلح موعود کا درج ذیل مضمون 31 مئی 1929 ء کے الفضل میں شائع أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ اہم مضامین پر اخبار میں قلم اٹھانے کے یہی معنی ہوا کرتے ہیں کہ ان کے کسی ایک پہلو پر روشنی ڈال دی جائے ورنہ جو مضامین کہ سینکڑوں صفحات کے محتاج ہیں انہیں ایک دو صفحات میں لے آنا یقیناً انسانی طاقت سے بالا ہے۔میں بھی مذکورہ بالا مضمون کے متعلق جو اپنی تفصیلات کے لئے بیسیوں مجلدات کا محتاج ہے بلکہ پھر بھی ختم نہیں ہوسکتا یہی طریق اختیار کروں گا۔خدا تعالیٰ کا کلمہ انبیا ء خدا تعالیٰ کا کلمہ ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا 1 تو کہہ دے کہ اگر سمندر سیاہی بن جائیں اور ان سے میرے کلمات کی توضیح اور تشریح کی جائے تو سمند رختم ہو جائیں گے مگر میرے کلمات کے کمالات کا بیان ختم نہ ہوگا۔خواہ اس قدر سیا ہی ہم اور بھی کیوں نہ پیدا کر دیں۔غرض نبوت کا مضمون تو ایک نہ ختم ہونے والا مضمون ہے مگر موقع کے لحاظ سے اس کا ایک قطرہ پیش کیا جا سکتا ہے۔