سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 148

سيرة النبي علي 148 جلد 3 کا نتیجہ ہے تندرست اور صحیح نشو ونما کا نتیجہ نہیں ہے۔اس شخص کی حالت بالکل اس بیج کی سی ہوگی جو نہایت طاقتور زمین میں بویا جاتا ہے اور اس قدر جلد نشو و نما پا کر بڑا ہو جاتا ہے کہ اس کی بالیں دانوں سے محروم رہ جاتی ہیں وہ بھوسہ تو بہت کچھ دے دیتا ہے مگر دانہ اس سے بہت کم نکلتا ہے۔اس کے مقابلہ میں جو شخص تمام انسانی کمالات کو ہے۔ظاہر کرنے والا ہوگا اس کی نشو ونما تمام خواص فطرت پر مشتمل ہوگی اور ان کے اندر ایک خاص تناسب ہوگا۔ہر ایک خاصہ فطرت اس نسبت سے ترقی کرے گا جس نسبت سے کہ اسے ترقی کرنی چاہئے۔مثلاً سزا دینے کی طاقت بھی اس کی نشو و نما پائے گی اور رحم کی بھی اور عفو کی بھی اور برداشت کی بھی اور موازنہ کی بھی کہ یہ پانچوں جذبات جرائم کے متعلق فیصلہ کرتے وقت ضروری ہوتے ہیں۔ان میں سے ایک جذ بہ بھی اپنی حد مناسب سے کم ہو جائے تو انسانیت ناقص ہو جائے گی اور کمالات انسانیہ کا ظہور ناممکن رہ جائے گا۔چونکہ یہ ایک علمی مسئلہ ہے اور علم النفس کے بار یک مطالعہ کے بغیر اس کا سمجھ میں آنا بغیر تفصیل کے مشکل ہے اور وہ چند کالم جن میں میں نے اس مضمون کو ختم کرنا ہے اس کے لئے کافی نہیں۔اس لئے میں ایک دو مثالوں کے ذریعہ سے اس امر پر روشنی ڈال کر اصل مضمون کی طرف آتا ہوں۔وفاداری کا جذبہ مثال کے طور پر میں وفاداری کے جذبہ کو لیتا ہوں ہر شخص اسے پسند کرتا ہے لیکن یہی جذبہ اگر بدصحبت کے متعلق استعمال ہوتو کیسا سخت مضر ہوسکتا ہے اور ہوتا ہے۔دو شخص ایک جرم میں شریک ہوتے ہیں ایک کی ضمیر ایک وقت میں اسے ملامت کرنے لگتی ہے لیکن اس کی وفاداری کی روح جو مواز نہ نیک و بد کی طاقت سے بڑھی ہوئی تھی اس کی اندرونی آواز کو خاموش کرا دیتی ہے اور اس کے کان میں کہہ دیتی ہے کہ بے وفا نہیں ہونا چاہئے جو کچھ ہونا تھا ہو چکا اب مجھے اپنے دوست کا ساتھ دینا چاہئے۔