سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 147

سيرة النبي عليه 147 جلد 3 قبول کرنے کی سب سے زیادہ قابلیت رکھتی ہوگی اور انسانی کمالات کو سب سے زیادہ ظاہر کرے گی۔اوپر کی بات کو پوری طرح واضح کرنے کامل نبی ، کامل انسان ہوتا ہے کے لئے میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ اسلام کے نزدیک انسانی فطرت گندی نہیں ہے جس کی اصلاح نبوت کرتی ہے بلکہ اسلام کے نزد یک فطرت انسانی ان تمام قابلیتوں کو بیچ کے طور پر اپنے اندر رکھتی ہے جن کا حصول انسان کے لئے ممکن ہے ہاں وہ اسی طرح بیرونی مدد کی محتاج ہے جس طرح آنکھ نور کی اور زمین بارش کی۔پس نبوت کا یہ کام نہیں کہ وہ فطرت انسانی کے بعض خواص کو کاٹے بلکہ اس کا یہ کام ہے کہ وہ تمام خواص انسانی کو صحیح طور پر ابھارے۔پس کامل نبی کا کامل انسان ہونا ضروری ہے۔جب تک انسانیت کے تمام لطیف خواص کسی انسان میں صحیح طور پر نشو و نما نہ پائیں وہ نبی نہیں ہو سکتا اور جب تک وہ خواص اپنے اپنے دائرہ میں کمال کو نہ پہنچ جائیں وہ شخص نبی نہیں کہلا سکتا۔بات تجربہ سے ثابت ہے کہ بعض لوگ خاص دائرہ میں خاص قابلیت کسی خاص بات میں غیر معمولی قابلیت رکھتے ہیں اور دنیا ان کی لیاقت کو دیکھ کر حیران ہو جاتی ہے لیکن آخر کار وہ پاگل اور مجنون ہو کر مرتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی خاص دائرہ میں قابلیت کا ظہور انسانی کمال پر دلالت نہیں کرتا بلکہ صرف بعض خواص انسانی کے ایک محدود دائرہ میں حد سے زیادہ ترقی کر جانے پر دلالت کرتا ہے۔یہ امر بالکل ممکن ہے کہ ایک شخص جس کے اندر عشق کا مادہ ایسا غالب آ گیا ہو کہ دوسرے تمام جذبات پر وہ غالب ہو گیا ہو بجائے کسی انسان پر عاشق ہونے کے خدا تعالیٰ ہی کی محبت کی طرف متوجہ ہو جائے اور دنيا وَ مَا فِيهَا کو بھلا دے۔مگر ایسا شخص کبھی بھی ان کمالات روحانیہ کو حاصل نہ کر سکے گا جو دوسرے لوگ حاصل کر سکتے ہیں۔کیونکہ اس کا جذبہ محبت بگڑی ہوئی نفسی حالت