سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 134
سيرة النبي عمال 134 جلد 3 ارتکاب جرم کے بعد پکڑ کر سزا دیتا ہے لیکن مذہب کا کام یہ ہے کہ ارتکاب سے پہلے رو کے اور جو مذہب ارتکاب جرم سے روک نہیں سکتا اس کا کوئی فائدہ نہیں۔روحانی اور دنیاوی قانون میں یہی فرق ہے کہ روحانی شریعت جرم کے پیدا ہونے سے پہلے روکتی ہے لیکن دنیاوی قانون جرم کے پیدا ہونے کے بعد مجرم کو سزا دے کر اس کے متعدی ہونے کو روکتا ہے۔دونوں کے علیحدہ علیحدہ کام ہیں۔اگر جسمانی قانون بعد میں سزا نہیں دیتا تو وہ بھی ناقص ہے اور اگر روحانی شریعت جرائم کو قلوب سے نکالنے کی کوشش نہیں کرتی تو وہ بھی بے فائدہ ہے۔مذہب کی غرض انسان کے دل میں خشیت اللہ پیدا کرنا ہے جو مذہب اس غرض کو پورا نہیں کرتا وہ مذہب کہلانے کا ہرگز مستحق نہیں ہے۔جو مذہب کبر، غرور، نخوت ، تذلیل، تحقیر، تو ہین سے نہیں روکتا وہ دراصل مذہب نہیں بلکہ ایک بیماری ہے جسے جس قدر جلد دنیا سے مٹایا جا سکے بہتر ہوگا۔مذہب وہی کہلا سکتا ہے جو کبر وغرور، نخوت ، تذلیل، تحقیر، تو ہین اور فتنہ وفساد کی تمام راہوں کو بند کرتا ہے۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ ان حالات کو دیکھتے ہوئے جو آج کل رونما ہو رہے ہیں کوئی مذہبی یا سیاسی لیڈر یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کا مذہب اپنے پاؤں پر کھڑا ہے اور اس کے گرنے کا کوئی خدشہ نہیں۔یہ ایک حقیقت ہے جن قوموں میں دوسروں کی عزت و آبرو کی حفاظت کی طرف توجہ نہیں ہوتی ایسی قومیں اپنے ہاتھوں سے اپنی موت کے فیصلہ پر دستخط کرتی ہیں اور جو شخص اپنی قوم کے ایسے افراد کی پیٹھ ٹھونکتا ہے، ان کے لئے بہانے اور عذر تلاش کرتا ہے وہ اپنی قوم کا بدترین دشمن ہے۔ناروا افعال پر جتنا بھی اظہارِ مذمت کیا جائے اُتنا ہی قومی خدمت ہے۔جو مائیں محبت سے اپنی اولاد کے جرائم کو چھپاتی ہیں وہ مائیں خیر خواہ نہیں بلکہ اولاد کی دشمن ہوتی ہیں۔ہمارے ملک میں ایک مشہور قصہ ہے کہ کسی عادی مجرم کو جب پھانسی پر لٹکایا جانے لگا تو اس نے ماں سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔اس پر اس خیال سے کہ بجائے کسی عمدہ