سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 133
سيرة النبي علي 133 جلد 3 رسول کریم ﷺ کی عظمت شان حضرت مصلح موعود 12 اپریل 1929 ء کے خطبہ جمعہ میں راجپال کے قتل پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔وو دوسرا لاہور میں راجپال کے قتل کا واقعہ ہے یہ وہی شخص ہے جس نے ایک نہایت ہی دل آزار اور گندی کتاب شائع کی اور ماتحت عدالتوں سے سزا یاب ہونے کے بعد عدالت عالیہ کے ایک جج نے یہ کہہ کر اسے بری کر دیا تھا کہ موجودہ قانون اس کے لئے کوئی سزا تجویز نہیں کرتا۔اس کے قتل کے شبہ میں ایک مسلمان پکڑا بھی گیا ہے اور اس پر مقدمہ چل رہا ہے۔گورنمنٹ کا بھی یہی قانون ہے اور عقل بھی یہی کہتی ہے کہ جب تک کسی کا جرم ثابت نہ ہو اسے قاتل کہنا گناہ ہے۔بہر حال قتل ہوا ہے اور قتل کرنے والا کوئی ضرور ہے اس سے انکار نہیں ہو سکتا۔پہلے بھی دو دفعہ اس پر حملہ ہوا تھا اور یہ واقعہ اپنی قسم کا پہلا واقعہ نہیں اس سے پہلے کئی بار مسلمانوں پر ہندوؤں نے حملے کئے اور قتل و خونریزی تک نوبت پہنچائی۔پچھلے ہی دنوں لاہور میں نہتے مسلمانوں پر جبکہ وہ نماز پڑھ کر مسجد سے نکل رہے تھے ہندوؤں نے حملہ کر دیا جس سے غالباً چار پانچ آدمی مارے گئے اور کئی مجروح ہوئے۔اسی طرح کئی مقامات پر مسلمانوں پر ہندوؤں نے حملے کئے۔ملتان ، کٹار پور، آرہ، بہار، بنگال، مالا بار، دہلی ،ضلع گڑگانواں، ضلع انبالہ کے واقعات بتا رہے ہیں کہ ہمارے ملک کے لوگ مذہب کی حقیقت سے ناواقف ہیں۔رسولوں کے دنیا میں آنے اور بچے مذہب کی غرض اگر کوئی ہو سکتی ہے تو یہی کہ انسان کو جرم کے ارتکاب سے پہلے روکا جائے۔گورنمنٹ کا قانون مجرم کو