سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 132
سيرة النبي علي 132 جلد 3 رسول کریم علیہ کو آسمانی خبریں ملنے کی مثال حضرت مصلح موعود 29 مارچ 1929 ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔صلى الله رسول کریم عہ ایک دفعہ خطبہ بیان فرما رہے تھے کہ تین شخص آئے۔ایک علومة صلى الله نے دیکھا کہ جگہ تو نہیں لیکن رسول کریم ﷺ کے قرب کی محبت سے مجبور ہو کر وہ کو دتا پھاند تا آگے آ بیٹھا۔دوسرے شخص نے حیا کی اور جہاں اسے جگہ ملی وہیں بیٹھ گیا۔تیرے نے دل میں کہا یہاں تو کوئی آواز پہنچتی ہے اور کوئی نہیں پہنچتی ، یہاں بیٹھے رہنے سے کیا فائدہ چنانچہ وہ واپس چلا گیا۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا خدا تعالیٰ نے مجھے تین آدمیوں کی حالت کی خبر دی ہے۔ایک آیا اور جگہ تلاش کر کے آگے آ پہنچا۔خدا تعالیٰ نے فرمایا اس کے اخلاص کی برکت میں میں اسے اپنے قرب میں جگہ دوں گا۔ایک اور آیا اس نے کہا آگے تو جگہ نہیں لیکن پیچھے ہٹنا بھی ٹھیک نہیں اور وہ وہیں بیٹھ گیا۔خدا تعالیٰ نے فرمایا میں نے بھی اس کے گناہوں کی حیا کی۔تیسرا آیا اور لوٹ گیا۔خدا نے فرمایا جس طرح وہ اس مجلس سے لوٹ گیا میں نے اس سے منہ پھیر لیا 1 بظاہر یہ معمولی بات ہے لیکن چونکہ یہ افعال قلب سے پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے انعامات دل کی حالت پر ہی ہوا کرتے ہیں اس لئے جزا اور نتیجہ کے لحاظ سے بہت بڑے ہیں کیونکہ اصل دیکھنے والی بات یہ ہوتی ہے کہ دین کے معاملہ میں کس نے ستی کی اور کون آگے بڑھا۔“ ( الفضل 5 اپریل1929ء) 1: بخاری كتاب العلم باب من قعد حيث ينتهى به المجلس و من رأى فرجة في الحلقة فجلس فيها صفحه 16 حدیث نمبر 66 مطبوعہ ریاض1999ءالطبعة الثانية