سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 128
سيرة النبي علي 128 جلد 3 ایک اعتراض کا جواب کہ آپ کو اتنا بڑا قرآن کیسے یادرہ گیا حضرت مصلح موعود 28 دسمبر 1928 ء اپنی تقریر بر موقع جلسہ سالانہ قادیان میں ایک اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں :۔وو صلى الله پہلا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کو اتنے کاموں اور شورشوں میں قرآن کریم یاد کس طرح رہ سکتا تھا۔یہ ایسا سوال ہے کہ اس کا ایک ہی جواب ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ ایک واقعہ کو کس طرح جھٹلایا جا سکتا ہے۔جب واقعہ یہ ہے کہ قرآن کریم آپ کو یا د رہا اور شب و روز نمازوں میں سنایا جا تا رہا تو اس کا انکار کس طرح کیا جا سکتا ہے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ میرے سامنے پروفیسر مارگولیتھ نے یہ اعتراض کیا کہ اتنا بڑا قرآن کس طرح یا درہ گیا ؟ میں نے کہا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تو قرآن اترا تھا اور آپ کے سپرد ساری دنیا کی اصلاح کا کام کیا گیا تھا آپ اسے کیوں یاد نہ رکھتے ؟ میرے ایک لڑکے نے گیارہ سال کی عمر میں قرآن یاد کر لیا ہے اور لاکھوں انسان موجود ہیں جنہیں سارے کا سارا قرآن یاد ہے۔جب اتنے لوگ اسے یاد کر سکتے ہیں تو کیا و ہی نہیں کر سکتا تھا جس پر قرآن نازل ہوا تھا۔“ فضائل القرآن نمبر 1 صفحہ 23 ، 24 ناشر الشركة الاسلامیہ ربوہ 1963 ء)