سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 122
سيرة النبي عمال 122 جلد 3 ہونٹ کانپ رہے تھے ، اس کا تمام جسم جذبات کی زندہ تصویر بنا ہوا تھا اور وہ بلبلا کر دعا مانگ رہا تھا۔یہ کیفیت ہے ان قوموں کی جن میں خدا کا نام ہی نام رہ گیا ہے اور حقیقت مٹ گئی ہے۔ان کے مقابلہ میں مسلمان ہیں جن کا زندہ خدا ہے اور جو زندہ رسول کے ماننے والے ہیں اور جو آج بھی خدا کے فضلوں کے اُسی طرح وارث ہو سکتے ہیں جس طرح پہلے ہوئے مگر نہ انہیں خدا کی طرف توجہ ہے نہ اس کے رسول کی طرف اور نہ اس قرآن کی طرف۔اَدْعُوا إِلَى اللهِ پر عمل کرنا تو الگ رہا یعنی یہ کہ وہ تبلیغ کریں ان کی اپنی حالت ایسی ہے کہ اسلام سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔معلوم یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کی بعض خطاؤں اور غلط کاریوں کی وجہ سے یہ وبال ان پر ڈال رکھا ہے۔ورنہ سمجھ میں نہیں آتا جھوٹے مذاہب والوں میں تو اپنے اپنے مذہب کے لئے ایسی قربانیاں اور ایسے ایثار دکھانے والے پیدا ہوں مگر مسلمانوں میں نہ ہوں جنہیں خدا تعالیٰ نے قرآن ایسی کتاب دی جس کا مقصد اور مدعا ہی اَدْعُوا إِلَى اللهِ ہے۔دوسری بات اس آیت میں رسول کریم ﷺ کی طرف سے یہ بیان کی گئی ہے کہ میں اور میرے متبع عقل اور دلیل پر چلتے ہیں مگر اب نظر یہ آتا ہے کہ مسلمان ہی عقل اور دلیل کو سب سے زیادہ چھوڑنے والے ہیں۔اس وقت مسلمانوں کے علماء کے پاس اگر کوئی چیز باقی رہ گئی ہے تو صرف روایت۔رسول کریم ﷺ تو فرماتے ہیں علی بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِی مگر یہ کہتے ہیں فلاں نے یہ بات لکھی ہے خواہ وہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے ہم اس کو مانیں گے۔خدا اور خدا کا رسول تو ایمان کی بنیاد عقل اور دلیل پر رکھتا ہے اور رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں میں ہی عقل اور دلیل پر قائم نہیں ہوں بلکہ جو بھی میرا سچا متبع ہو گا وہ اپنے ایمان کو عقل اور دلیل پر قائم کرے گا ، وہ کبھی یہ نہ کہے گا کہ فلاں نے یوں کہا ہے اس لئے میں فلاں بات مانتا ہوں بلکہ وہ یہی کہے گا کہ عقل اور دلیل سے مجھے یہ بات معلوم ہو گئی ہے اس لئے مانتا ہوں۔پس مومن یہ