سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 123
سيرة النبي علي 123 جلد 3 حریت اور آزادی دکھاتا ہے۔وہ سارے واسطے مٹا دیتا اور براہ راست خدا تعالیٰ تک پہنچتا ہے۔یہی ایک سچے مومن کی شان ہے۔ہم مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور ہمارے درمیان کوئی واسطہ نہیں حتی کہ رسول جو سب سے بڑی چیز ہے اسے بھی ہم واسطہ نہیں صلى الله سمجھتے کیونکہ ہم مشرک نہیں۔رسول کریم ﷺے ہمارے ہادی اور راہ نما ہیں مگر ہمارے اور خدا تعالیٰ کے درمیان بند دروازہ نہیں ہیں بلکہ کھلا دروازہ ہیں تا کہ ہم اس دروازہ میں سے گزر کر خدا تعالیٰ تک پہنچ جائیں۔اس بات کو بیان کرنے کے لئے زیادہ تفصیل کی ضرورت ہے لیکن اس خطبہ سے دور چلا جاؤں گا اگر میں اس تفصیل کو بیان کروں۔ہاں اتنا بتا دیتا ہوں کہ ہم میں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں میں یہ فرق ہے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے رستہ میں دربان مقرر کئے ہوئے ہیں۔وہ کہتے ہیں ان سے ٹکٹ حاصل کرو تو آگے جا سکتے ہو۔مگر اسلام یہ کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ تک پہنچنے کا ہر ایک کے لئے دروازہ کھلا ہے اور رسول ﷺ کا کام یہ ہے کہ بھولے بھٹکوں کو پکڑ پکڑ کر اس دروازہ کی طرف لائے۔یہ ہے نبوت کے متعلق اسلامی تعلیم اور یہ ہے اسلام اور دوسرے مذاہب میں فرق۔صلى الله تو باوجود اس کے کہ رسول کریم علیہ فرماتے ہیں میں اور میری جماعت بصیرت پر قائم ہیں اس زمانہ کے علماء مسلمانوں کو پرانے لوگوں کے افکار وحوادث کا ، ان کے خیالات کا اور ان کی روایات کا غلام بنائے رکھنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔پھر مسلمانوں کی روایات کا ہی نہیں یہودیوں اور عیسائیوں کی روایات کا بھی غلام بنا رکھا ہے۔خدا کے نبیوں اور فرشتوں کے متعلق یہودیوں اور عیسائیوں کی روایات کی بنا پر ایسی ایسی باتیں تفسیروں میں لکھی ہیں جن کو کوئی شریف انسان پڑھ بھی نہیں سکتا مگر ان کے متعلق کہتے ہیں مسلمانوں کو ماننی چاہئیں کیونکہ تفسیر وں میں لکھی ہیں۔فرشتے جن کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ، جو کچھ انہیں کہا جائے وہی 6 کرتے ہیں اس کے سوا کچھ نہیں کرتے ان کی نسبت لکھا ہے کہ آسمان سے آدمی بن کر