سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 121
سيرة النبي عمال 121 جلد 3 مجھے وہ نظارہ یاد آ جاتا ہے تو میرا دل بے چین ہو جاتا ہے۔میں نے یہودیوں کی اپنے مذہب سے جو تڑپ دیکھی وہ بہت ہی دردانگیز تھی۔یروشلم میں ایک مسجد ہے۔وہ مقام یہودیوں کے لئے ایسا ہی متبرک ہے جیسا ہمارے لئے خانہ کعبہ۔مسلمانوں کے زمانہ میں جب یروشلم فتح ہوا تو عیسائیوں نے چاہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس مقام کے اندر آ کر نماز پڑھیں مگر آپ نے فرمایا میں ڈرتا ہوں کہ اگر میں نے اندر نماز پڑھی تو مسلمان اس جگہ کو اپنی عبادت گاہ بنالیں گے اور آپ نے باہر نماز پڑھی 5۔وہ مقام یہودیوں سے رومیوں نے چھین لیا تھا اور پھر ان سے عیسائیوں کے قبضہ میں آیا تھا اب اس مقام کو یہودیوں کے ہاتھ سے نکلے اٹھارہ سو سال کے قریب ہو چکے ہیں لیکن آج تک ہر جمعہ کے دن وہ لوگ اس مسجد کے پاس جاتے اور اس کی دیوار کو پکڑ کر چھینیں مار مار کر روتے ہیں اور دعائیں کرتے ہیں کہ خدایا ! یہ مسجد ہمارے حصہ میں آ جائے۔میں سمجھتا ہوں یہ میری خوش قسمتی تھی کہ اُن دنوں میں جن میں وہاں میں ٹھہر جمعہ کا بھی دن تھا اور مجھے وہ نظارہ دیکھنے کا موقع ملا۔میں نے جا کر دیکھا کہ بچے، بوڑھے ، عورتیں اور مرد بلک بلک کر رو ر ہے تھے اور دعائیں کر رہے تھے۔میں اس کیفیت کو نہیں بھول سکتا کہ ایک اٹھارہ سالہ لڑکی دونوں ہاتھوں سے دیوار کے ساتھ چمٹ کر اور زبان اس کے ساتھ لگا لگا کر اس بے تابی اور اضطراب کے ساتھ رو رہی تھی کہ خیال ہوتا تھا اسے ہسٹیریا کا دورہ پڑا ہوا ہے اور اس وجہ سے اسے سر پیر کی ہوش نہیں ہے۔اسی طرح میں نے ایک بڑھے کو دیکھا جس کی عمر نوے سال کے قریب ہو گی اس کی کمر ٹیڑھی ہو چکی تھی ، وہ کمزوری کی وجہ سے کھڑا نہ ہوسکتا تھا، اس کی داڑھی ناف تک لمبی تھی وہ بے اختیار ہو ہو کر اس طرح گرا پڑتا تھا کہ گویا ابھی اس کا اکلوتا بیٹا مرا ہے ، اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے تھے، اس کے ہاتھ لٹکے ہوئے تھے، اس کے