سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 115
سيرة النبي عمال 115 جلد 3 النَّاسِ الهِ النَّاسِ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ 3 پر۔یعنی خدا تعالیٰ کا نام لے کر شروع کرتے ہیں، خدا ہی کے سپر د کر کے ختم کرتے ہیں۔مگر انجیل کو دیکھو کس طرح شروع ہوتی ہے۔فلاں سے فلاں پیدا ہوا اور فلاں سے فلاں۔اس کا خدا تعالیٰ سے ملنے اور اس کا قرب حاصل کرنے سے کیا تعلق؟ اور پھر ختم ہوتی ہے تو اس طرح کہ حضرت مسیح نہایت مایوسی اور بے قراری کی حالت میں صلیب پر لٹکائے جاتے اور بالفاظ انجیل مار ڈالے جاتے ہیں۔ظاہر ہے کہ انجیل نے اپنے اول اور آخر جو کچھ پیش کیا ہے وہ قرآن کریم کے مقابلہ میں بہت ادنی ہے۔قرآن کریم اللہ تعالیٰ کے نام سے شروع ہوتا ہے اور اللہ ہی کے نام پر ختم ہوتا ہے۔گویا اللہ ہی کے نام سے برکت حاصل کر کے شروع کیا جاتا ہے اور اللہ ہی کے سپرد کر کے ختم کیا جاتا ہے۔قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ 4 اور قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ کی سورتوں کا خلاصہ کیا ہے؟ صرف یہ کہ سپردم بتو مایه خویش را تو دانی حساب کم و بیش را میں نے تیرا نام لے کر کام شروع کیا تھا اور نیت یہی تھی کہ تجھے ہر بات میں مقدم رکھوں اور تیرے لئے اپنے آپ کو مٹا دوں اس نیت کے ساتھ میرا کام ختم ہوتا ہے۔مگر میں یہ مانتا ہوں کہ مجھ سے غلطیاں ہوئیں، کوتاہیاں ہوئیں اس لئے اپنی جان تیرے سپر د کرتا ہوں اب جو تو چاہے وہ کر۔کیسی محبت کی اور کتنی درد کی تعلیم ہے۔محبت ہے تو ایسی کہ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ کہنے کے بغیر کوئی کام ہی نہیں کیا جاتا۔یہ کمال محبت ہے کہ کسی چیز کو چھونا بھی نہیں چاہتا جب تک خدا کا نام نہ لے لے۔جیسے ماں ہر چیز کھانے کے وقت بچہ کو یاد کر لیتی ہے اسی طرح مومن ہر کام کرنے کے وقت خدا کو یاد کرتا ہے۔پھر اس محبت سے وہ سوز اور گداز پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ سے بالکل بے جان کی طرح خدا تعالیٰ کے سامنے ڈال کر کہتا ہے جو کچھ کرنا ہے تو نے ہی کرنا ہے۔