سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 114

سيرة النبي علي 114 جلد 3 لیکن جب میں نے قرآن پڑھا تو ایک بات نے مجھے مجبور کر دیا کہ اسے جھوٹا نہ کہوں اور وہ یہ ہے کہ جو شخص کوئی جھوٹ بولتا ہے اس کا کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے۔وہ یا تو روپیہ حاصل کرنا چاہتا ہے یا قوم کو فائدہ پہنچانا چاہتا ہے یا ذاتی طور پر کوئی فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔غرض کوئی نہ کوئی اس کی غرض ہوتی ہے۔میں نے قرآن کو شروع سے لے کر آخر تک پڑھا ہے مگر کوئی مقصد ایسا نہ نظر آیا۔اگر اس میں ایسی تعلیم دی جاتی جس سے محمد (ع) کے پاس دولت جمع ہو جاتی یا ان کو حکومت حاصل ہو جاتی یا ان کی قوم کو دوسروں پر برتری دی جاتی یا کوئی اور ذاتی یا قومی فائدہ حاصل کرتا تو میں سمجھتا اس شخص نے فلاں غرض کے لئے جھوٹ بولا ہے مگر قرآن میں ایسی باتوں میں سے کوئی بھی نظر نہیں آتی بلکہ شروع سے آخر تک یہی ذکر ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرو، اس کی رضا حاصل کرو، اس کے حکم کے خلاف کوئی بات نہ کرو، اس کا قرب حاصل کرو اور جب ہم اس انسان کی ذات کی طرف دیکھتے ہیں جس نے یہ باتیں بیان کیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جو کام بھی وہ شروع کرتا ہے خدا کا نام لے کر شروع کرتا ہے اسے ہم جھوٹا تو نہیں کہہ سکتے۔اگر اس کا نام جنون رکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ اسے خدا کی محبت کا جنون تھا۔یہ ایک غیر کی گواہی ہے اور اس شخص کی گواہی ہے جس نے قرآن کریم کو اس نظر سے دیکھا کہ اس کی قوم کے لوگ قرآن کو جھوٹا کہتے تھے۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ قرآن بھی کہتا ہے اَدْعُوا اِلَى اللهِ اور ایک غیر شخص جس میں تعصب نہ تھا وہ بھی یہی کہتا ہے کہ اگر بانی اسلام کو کوئی جنون تھا تو وہ خدا کی محبت کے سوا اور کچھ نہیں تھا۔تو فرمایا یہ رستہ ہے جس کی طرف میں بلاتا ہوں اور وہ خدا کی طرف جانے کا رستہ ہے۔اب قرآن کریم کے اس مضمون اور دوسری مذہبی کتب کے مضمون کو دیکھو کتنا بڑا فرق نظر آتا ہے۔رسول کریم ﷺ قرآن کریم شروع کرتے ہیں تو بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ 2 سے اور ختم کرتے ہیں تو قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ