سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 113

سيرة النبي متر 113 جلد 3 یہودیوں کی جتھہ بندی پر سارا زور صرف کیا گیا ہے۔میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ یقیناً حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ و السلام کی یہ تعلیم نہ ہو گی لیکن بہر حال ان کی طرف جو منسوب کی جاتی ہے وہ ایسی ہے اور اس کے سوا کوئی اور ایسی تعلیم نہیں ہے جو ان کی بتائی جاتی ہو۔پھر انجیل کو دیکھتے ہیں تو اس میں بھی اَدْعُوا اِلَى اللهِ کی سپرٹ نظر نہیں آتی۔اس میں سارا زور اپنی قوم کو ابھارنے ، ان کی امید میں قائم کرنے یا پھر اپنی ذات کی طرف توجہ دلانے پر ہے۔میں نہیں سمجھتا حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام نے یہی تعلیم دی ہو مگر بہر حال ہمارے سامنے جو کچھ ہے وہ یہی ہے۔اللہ تعالیٰ کی ذات پر زور دینے والی کتاب زبور ہے اسی لئے زیادہ تر عیسائی اپنے وعظوں میں زبور کو پیش کرتے اور اس پر زور دیتے ہیں۔جتنے مشہور عیسائی واعظ ہیں وہ زبور کی آیات پڑھ کر ان پر اپنے وعظ کی بنیا د رکھتے ہیں۔وجہ یہ کہ اس میں خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ کرنے پر بہت زور دیا گیا ہے مگر وہاں بھی اَدْعُوا إِلَى اللهِ والی بات نظر نہیں آتی حضرت داؤڈ یہ نہیں بیان کر رہے کہ اللہ کی طرف آؤ بلکہ یہ کہتے ہیں کہ میں اللہ کی طرف جا رہا ہوں اور ان دونوں باتوں میں بڑا فرق ہے۔ایک کا تو یہ مطلب ہے کہ اپنی ذات کا فائدہ اٹھاؤ اور دوسری کا یہ ہے کہ اپنی ذات کا ہی فائدہ نہ اٹھاؤ بلکہ ساری دنیا کو فائدہ پہنچاؤ۔تو زبور میں بے شک محبت الہی کا ذکر ہے مگر وہ صرف حضرت داؤڈ سے مخصوص ہے اَدْعُوا اِلَی اللہ نہیں ہے۔مگر قرآن کی جس سورۃ ، جس رکوع اور جس آیت کو دیکھو اس میں یہی نظر آئے گا کہ خدا تعالیٰ کو پیش کیا گیا اور ساری دنیا کے لئے پیش کیا گیا ہے۔یعنی سب کو اس کی طرف جانے اور اس سے فیض حاصل کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔یہ قرآن کریم کی اتنی بڑی خوبی ہے جو مخالفین کو بھی متاثر کئے بغیر نہیں رہ سکتی۔چنانچہ ایک فرانسیسی مصنف لکھتا ہے میں نے پادریوں کی کتابوں میں پڑھا تھا کہ قرآن ایک جھوٹی کتاب ہے اس وجہ سے مجھے اس کے پڑھنے کا خیال پیدا ہوا۔