سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 112
112 جلد 3 سيرة النبي عليه پر عمل نہیں کرتا تو اس کی بات کا کوئی اثر نہیں ہوسکتا۔ہر انسان جو اس کی بات سنے گا یہی سمجھے گا کہ اگر اس بات میں خوبی ہوتی تو یہ خود بھی اس پر عمل کرتا۔پس اگر کوئی شخص اعلیٰ اخلاق سکھائے ، اچھے معاملات کی تلقین کرے اور فلسفیانہ باتیں بتائے لیکن خودان کو رد کرتا جائے تو وہ کبھی نیکی پھیلانے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔اگر ہم لوگوں سے کہتے ہیں کہ خدا کی طرف آؤ، خدا کے دین کے لئے قربانیاں کرو، اپنی قوم کے لئے قربانی اور ایثار دکھاؤ تو ضروری ہے کہ اپنے عمل سے بھی ان باتوں کا ثبوت دیں۔زبان با اثر اُس وقت ہو سکتی ہے جب کہ انسان وہ کام خود بھی کرے جس کے کرنے کے لئے دوسروں سے کہے۔اگر دوسروں سے تو کہے کہ قوم یا مذہب یا جماعت کی خاطر اولاد کو قربان کرو مگر خود اولاد کو ایسے رستہ پر لگائے جس سے دنیا کا فائدہ حاصل ہوتا ہے تو اس کی بات کا کیا اثر ہو گا۔اسی طرح جو شخص دوسروں سے کہے کہ خدا سے محبت کرو مگر آپ خدا کی محبت میں نہیں بلکہ دنیا کی محبت میں چور ہو تو ایسے انسان کی بات کا کیا اثر ہو گا۔تو فرمایا هذِهِ سَبِیلِ اس میں صرف یہ نہیں بتایا کہ میں کس طرف بلاتا ہوں بلکہ یہ بھی بتایا ہے کہ جس طرف میں بلاتا ہوں اس طرف خود بھی جا رہا ہوں۔پس اس جملہ میں اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کا نہ صرف دعوی پیش کیا ہے بلکہ آپ کا عمل بھی پیش کر دیا ہے۔اور وہ رستہ یہ ہے اَدْعُوا إِلَى اللهِ اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔یہ ایک امتیازی نشان ہے رسول کریم ﷺ کی فضیلت کا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ باقی انبیاء خدا کی طرف نہ بلاتے تھے ، بلاتے ہوں گے مگر ان کی تعلیمیں چونکہ منسوخ ہو گئی ہیں ان سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ ادْعُوا اِلَی اللہ کرتے تھے۔توریت پڑھنے سے انسان اس بات سے تو متاثر ہوتا ہے کہ اس میں ایک حد تک خدا کی طرف بلایا گیا ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قومیت اور جتھہ بندی کی طرف زیادہ توجہ دلائی گئی ہے اور یہ سکھایا گیا ہے کہ تم ساری دنیا سے معزز قوم ہو، سب سے ممتاز ہو، ساری خوبیاں تم میں جمع ہیں۔گویا