سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 97

سيرة النبي عمال 97 جلد 3 حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جو محبت رسول کے متوالے تھے کہا مجھ سے تو یہ نہیں ہوسکتا کہ رسول اللہ کا لفظ لکھ کر کاٹ دوں۔آپ نے فرمایا کا غذ میری طرف کرو اور رسول اللہ کا لفظ اپنے ہاتھ سے آپ نے مٹا دیا 66۔صلح اور امن کی خاطر اس قسم کی قربانی بہت کم لوگ کر سکتے ہیں۔رسول کریم ﷺ اس وقت فاتح کی حیثیت میں تھے۔آپ کا لشکر جنگ کے لئے بیتاب ہو رہا تھا کیونکہ وہ مکہ والوں کے بے جا مظالم کو دیکھ دیکھ کر جوش سے اہل رہا تھا۔اہل مکہ اُس وقت بالکل بے بس تھے۔ان کا لشکر تھوڑا اور ان کے مددگار دور تھے۔پس ان کی ان ہتک آمیز باتوں کا علاج آپ فورا کر سکتے تھے۔مگر آپ کے سامنے یہ بات تھی کہ وہ مقام کہ جسے خدا تعالیٰ نے اس لئے مقرر کیا ہے کہ وہاں لوگ امن سے اکٹھے ہو کر اصلاح نفس اور اصلاح عالم کی طرف توجہ کر سکیں اس جگہ جنگ نہ ہو اور اس کی دیرینہ عزت کو صدمہ نہ پہنچے۔پس اس کی خاطر ہر ایک ہتک کا کلمہ سنتے تھے اور خاموش ہو جاتے تھے۔دوسری مثال اس قسم کی قربانی کی یہ ہے کہ اُس زمانہ میں مکہ میں غلاموں کو بہت الله ذلیل سمجھا جاتا تھا اور رسول کریم ﷺ کا قبیلہ بہت معزز تھا۔بڑے بڑے قبیلوں والے اس قبیلہ کولڑ کیاں دینا فخر سمجھتے تھے۔مگر رسول اللہ ﷺ نے اپنی پھوپھی زاد بہن کی شادی ایک آزاد شدہ غلام سے کر دی 67۔یہ عزت کی کتنی بڑی قربانی تھی۔آپ نے اس طرح عملی قربانی سے لوگوں کو سبق دیا کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک سب انسان برابر ہیں۔فرق صرف نیکی، تقویٰ ، اخلاص اور اخلاق سے پیدا ہوتا ہے۔تیسری مثال اس قسم کی قربانی کی یہ ہے کہ ایک دفعہ ایک یہودی آیا جس کا آپ نے قرضہ دینا تھا۔اس نے آ کر سخت کلامی شروع کی اور گوادائیگی قرض کی میعاد ا بھی پوری نہ ہوئی تھی مگر آپ نے اس سے معذرت کی اور ایک صحابی کو بھیجا کہ فلاں شخص سے جا کر کچھ قرض لے آؤ اور اس یہودی کا قرض ادا کر دیا۔جب وہ یہودی سخت کلامی کر رہا تھا تو صحابہ کو اس یہودی پر سخت غصہ آیا اور ان میں سے بعض اسے سزا