سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 96

سيرة النبي علي 96 جلد 3 اس کے بعد مدینہ میں آپ بادشاہ ہوئے تھے تو باوجود بادشاہ ہونے کے آپ نے حقوق نہ لئے اور سادہ زندگی میں عمر بسر کی اور جس قدر ممکن ہو سکا غرباء کی خبر گیری کی حتی کہ آپ نے کھانا تک پیٹ بھر کر نہ کھایا۔صحابہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ آپ عام طور پر اپنے مال خدا تعالیٰ کی راہ میں لٹا دیتے ہیں تو انصار نے جو اپنے آپ کو اہل وطن ہونے کی وجہ سے صاحب خانہ خیال کرتے تھے یہ انتظام کیا کہ کھانا آپ کے گھر میں بطور ہدیہ بھجوا دیا کرتے۔لیکن آپ اسے بھی اکثر مہمانوں میں تقسیم کر دیتے یا ان غرباء میں جو دین کی تعلیم کے لئے مسجد میں بیٹھے رہتے تھے۔یہاں تک کہ جب آپ فوت ہوئے تو اس دن بھی آپ کے گھر میں کھانے کے لئے کچھ نہ تھا 64 اور یہ جو حدیثوں میں آتا ہے کہ مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ 65 اس کے یہ معنی نہیں کہ آپ نے کوئی مال چھوڑا تھا اور اسے آپ نے صدقہ قرار دیا تھا بلکہ اس کا یہ مطلب تھا کہ ہمارے گھر میں اپنا مال کوئی نہیں ہے جو کچھ ہے وہ صدقہ کا مال ہے۔پس اس کا مالک بیت المال ہے نہ کہ ہمارے گھر کے لوگ۔دوسرے معنی اسلام کی تعلیم کے خلاف ہیں کیونکہ اپنے سارے مال کی وصیت قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف پس اس حدیث کے یہ معنی کرنے کہ آپ نے اپنا ذاتی مال کوئی چھوڑا تھا اور اسے سب الله کا سب صدقہ قرار دیا تھا درست نہیں۔غرض رسول کریم ﷺ کی ساری زندگی مالی قربانی کا ایک بے نظیر نمونہ تھی۔عزت کی قربانی عزت کی قربانی بہت بڑی قربانی ہے اور بہت کم لوگ اس کی جرات رکھتے ہیں۔رسول کریم ﷺ کی زندگی میں اس کی بہت سی مثالیں پائی جاتی ہیں۔مثلاً صلح حدیبیہ ہی کا واقعہ ہے کہ جب معاہدہ لکھا جانے لگا تو آپ نے لکھایا کہ یہ معاہدہ محمد رسول اللہ اور مکہ والوں کے درمیان ہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ معاہدہ لکھ رہے تھے۔کفار نے کہا کہ رسول اللہ کا لفظ مٹا دو کیونکہ ہم آپ کو رسول نہیں مانتے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اچھا اسے مٹا دو۔