سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 84

سيرة النبي علي = 84 آپ مزید فرماتے ہیں :۔الله ایک دفعہ رسول کریم ﷺ نے صحابہ سے فرمایا تم میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس کے لئے شیطان مقرر نہیں۔صحابہ نے پوچھا کیا آپ بھی؟ آپ تو محفوظ ہوں گے؟ فرمایا ہاں میں بھی ایسا ہی ہوں مگر مجھے خدا نے طاقت دی ہے اور میں شیطان پر غالب آ گیا ہوں جب مجھے وہ کوئی تعلیم دیتا ہے تو نیکی کی ہی دیتا ہے برائی کی نہیں دیتا۔۔اس حدیث کے یہ معنی نہیں کہ ایک ایک شیطان ہر انسان کے لئے مقرر ہے اور رسول کریم کا شیطان نیکی کی تحریک کرتا تھا۔اگر وہ الگ وجود تھا اور اس نے بدی کی تحریک چھوڑ کر نیکی کی تحریک شروع کر دی تھی تو پھر وہ شیطان کس طرح رہا؟ پھر تو وہ فرشتہ ہو گیا۔اگر کہو کہ وہ پہلے شیطان تھا لیکن جب نیکی کی تحریک کرنے لگا تو فرشتہ ہو گیا تو یہ بھی درست نہیں کیونکہ رسول کریم ﷺ نے اس کی نیکی کی تحریک کرنے کا ذکر کرتے وقت بھی اسے شیطان ہی کہا ہے۔اگر اس کا یہ جواب دیا جائے کہ رسول کریم ﷺ نے اس کا نام شیطان اس کی پہلی حالت کی وجہ سے رکھا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر اس نے شیطنت کو چھوڑ دیا تھا تو یہ عظیم الشان اثر تو اس کے اندر محمد رسول اللہ علہ کے ذریعہ ہوا۔چنانچہ آپ خود فرماتے ہیں کہ سَلَّطَنِی۔اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر تسلط دے دیا۔پس اس کا اسلام تو رسول کریم ﷺ کی وجہ سے تھا پھر اس کو یہ درجہ کہاں سے ملا کہ وہ رسول کریم ہے کے دل میں نیک تحریکیں کرنے لگا۔کیونکہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں وہ مجھے نیک تحریکیں کرتا ہے۔پس یہ معنے اس کے بالبداہت غلط ہیں اور اس کے اور ہی معنے ہیں جو یہ ہیں کہ وہ عام اثرات شیطان کے جو ہر ایک انسان پر پڑ رہے ہیں اور جن سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہ سکتا ان کے متعلق آنحضرت می فرماتے ہیں کہ جب شیطان کا کوئی ایسا اثر مجھ پر آکر پڑتا ہے تو وہ نیکی ہو جاتی ہے۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے گندہ پانی جب فلٹر میں سے صلى الله الله جلد 2