سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 83

سيرة النبي ع 83 جلد 2 تھے اس میں بھی رسول کریم ﷺ افضل تھے کیونکہ وہ رسول کریم ﷺ پر آپ کے قومی کے مطابق اثر ڈالتی تھی اور حضرت جبرائیل پر ان کے قومی کے مطابق۔یہ بات اس طرح اور زیادہ آسانی کے ساتھ سمجھ میں آسکتی ہے کہ میں اس وقت یہ مضمون اردو میں بیان کر رہا ہوں اور ہر شخص اسے سمجھ سکتا ہے مگر ہر ایک، ایک جیسا نہیں سمجھ سکتا اور نہ ہر ایک پر ایک جیسا اثر ہوتا ہے۔پھر قلب کا اثر بھی بات پر جا پڑتا ہے۔دیکھو سورۃ فاتحہ ہی ہے کوئی شخص اسے پڑھتا ہے تو اس کی جھیلیں نکل جاتی ہیں اور کوئی پڑھتا ہے تو اس کے چہرہ پر بشاشت آجاتی ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ جس کے قلب کے اندر رونے کا مادہ ہوتا ہے اور وہ مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے وہ اسے پڑھ کر سمجھتا ہے خدا ہی ہے جو میری مصیبت کو دور کر سکتا ہے اور اس سے اس کی چینیں نکل جاتی ہیں۔لیکن دوسرا شخص جو کامیابیوں کو اپنے گردو پیش پاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خدا ہی میری حفاظت کرنے والا ہے کون ہے جو مجھے تباہ کر سکے۔اس سے اس کے پڑھنے سے چہرہ پر بشاشت آجاتی ہے۔تو ایک ہی بات کا قلب کی حالت کے لحاظ سے مختلف اثر ہوتا ہے۔پس وہ کلام جو رسول کریم ﷺ پر نازل ہوا وہ ان بشری قوی سے مل کر جو آپ کے اندر تھے اور نتیجہ اور مطلب پیدا کرتا اور جبرائیل کے اندر چونکہ اور قوی تھے اس لئے ان کے ساتھ مل کر اور نتیجہ پیدا ہوتا۔اور یہ صاف بات ہے کہ مختلف چیزوں کی ترکیب سے مختلف نتائج پیدا ہوا کرتے ہیں۔مثلاً چونا ہے اس پر اینٹیں رکھ دی جائیں تو کچھ نہیں ہوگا لیکن اگر پانی ڈالا جائے تو آگ پیدا ہو جائے گی کیونکہ چونا اور پانی کے ملنے سے یہ نتیجہ پیدا ہوا کرتا ہے۔تو باوجود اس کے کہ جو کچھ رسول کریم عالی و لیلی جبرائیل کے ذریعہ سے اترا اسے جبرائیل سمجھتے تھے مگر جو قومی رسول کریم ﷺ کو حاصل تھے وہ ان کو حاصل نہ تھے اس لئے ایسا نہ سمجھ سکتے تھے جیسا رسول کریم ع سمجھتے اور اسی وجہ سے رسول کریم ﷺ کو اس بارے میں بھی فضیلت حاصل ہے۔“ صلى الله ملائکۃ اللہ صفحہ 68 72 مطبوعہ قادیان بار دوم )